خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 373

خطبات محمود ۳۷۳ سال ۱۹۳۸ء اہل ہوتے ہیں۔غرض دیانت دار انسان وہ ہوتا ہے جو قضائی حصے کو جذ باقی حصہ سے مغلوب نہ ہونے دے لیکن جب وہ یہ مطالبہ پورا کر دے تو اور اس پر کوئی بوجھ نہیں بشرطیکہ اس کے جذبات جادہ اعتدال اور صداقت پر ہوں۔اگر وہ جذبات صداقت پر مبنی ہوں اور اگر وہ جادہ اعتدال پر قائم ہوں تو نہ صرف یہ کہ وہ خلاف انسانیت نہیں بلکہ وہ عین انسانیت ہیں۔یہ تین اصل ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے تب وہ جواب سمجھ آئے گا جو ان سوالات کا میں دینا چاہتا ہوں۔مگر چونکہ آج بہت دیر ہو گئی ہے اس لئے اسی پر اپنا خطبہ ختم کرتا ہوں دوسرا حصہ جو جواب پر مشتمل ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔“ ا الدخان: ۵۰ 66 بخارى كتاب الادب باب مَا يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ (الخ) ( الفضل ۳۰ر جون ۱۹۳۸ء) س وَالَّذِينَ يَرْمُونَ ازْوَاجَهُمْ وَ لَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةً آخر هم اربع شهد الله انه لمن الصُّدِقِينَ ( النور : )