خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 371

خطبات محمود ۳۷۱ سال ۱۹۳۸ء غم بھی کوئی جرم ہے۔ہر شخص تسلیم کرے گا کہ جب اس نے اپنے قضائی فرض کو ادا کر دیا تو اب اس کا اظہار غم کوئی ناجائز امر نہیں پس جب ایک حج قضائی طور پر اپنا فرض ادا کر لیتا ہے اور نا جائز طور پر دوسرے کے حقوق کو چھینے کی کوشش نہیں کرتا۔مثلاً یہ نہیں کرتا کہ اسے قید سے چھڑا لے ( مقدمہ لڑنا نا جائز نہیں کیونکہ جرم کا اثبات فیصلہ کے بعد ہوتا ہے پہلے نہیں ) تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کرے۔بشرطیکہ وہ جذبات جادہ اعتدال اور صداقت پر ہوں۔صداقت پر اس طرح کہ جن جذبات سے وہ نتیجہ نکالتا ہے وہ صحیح ہوں اور جادہ اعتدال پر اس طرح کہ جذبات حد سے آگے نہ نکل جائیں اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اُس کا یہ فعل انسانیت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہوگا۔اگر ایک باپ قاضی ہے اور اس کا بیٹا مجرم کی حیثیت میں اُس کے سامنے پیش ہے اور وہ اسے قانون کے مقتضی کو پورا کرنے کے لئے سزا دیتا ہے مگر اُس کا دل زخمی ہے تو جب اُس نے قانون کو پورا کر دیا تو اُس کا رنج اس کی نیکی کے منافی نہیں بلکہ عین مطابق ہے کیونکہ اُس نے ثابت کر دیا کہ وہ حج بھی ہے اور انسان بھی۔اور اگر کوئی شخص جذباتی حصہ کو ظاہر کرنا بھی نیکی کے منافی سمجھتا ہے تو وہ احمق اور بے وقوف ہے اور کی اس بات کو ثابت کرنے والا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو پڑھنے کے قابل نہیں۔اگر دُنیا کے سارے مجسٹریٹ بھی مل کر یہ کہیں کہ اگر ان جوں کے بیٹوں میں سے کسی سے کوئی جرم سرزد ہو اور فیصلہ کرتے وقت سزا بھی دیتے ہیں اور ان کے دل میں یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوتا کہ کاش ! ہمارا بیٹا بچ جاتا ، کاش وہ اس جرم کا ارتکاب نہ کرتا۔یا یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ کاش! اسے تو بہ کی توفیق مل جائے تا اگر اس کی دنیا نہیں سنور سکی تو آخرت ہی سنور جائے۔یا اگر سزا مل جاتی ہے تو ان کے دلوں میں یہ حسرت پیدا نہیں ہوتی کہ آہ افسوس ہمارا بچہ گناہ سے نہ بچ سکا تو میں ان سے یہ کہوں گا کہ تم اپنے دماغ کو خود پڑھنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا تم انسان نہیں بلکہ انسانیت سے بالا کوئی اور ہستی ہو۔مگر میں نہیں سمجھ سکتا دنیا میں دل اور دماغ رکھنے والے ایسے مجسٹریٹ بھی ہو سکتے ہوں جو قضاء سے اپنے جذبات کو چل دیں اور ان کے دلوں میں کوئی رحم پیدا نہ ہو، میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہ ایک قانون ہے جس سے باہر کوئی نہیں جا سکتا۔ہزارہا مثالیں روزانہ اس کی ملتی ہیں۔صحابہ کا ہی واقعہ ہے۔مقداد ایک بہت بڑے صحابی تھے