خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 301

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء امن حاصل نہیں، جسے چھوٹی چھوٹی اقلیتیں بھی دبانے اور ڈرانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں ، جس کی مثال اپنے مخالفین کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔وہ ان زبردست اور عظیم الشان طاقتوں کی اصلاح کرسکتی ہے یا نہیں۔یہ ایک سوال ہے جو ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور بظاہر انسانی سامانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امر بالکل ناممکن نظر آتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی کام لیا ہے ہمیشہ ایسے ہی وجودوں سے لیا ہے جو بظا ہر دنیا میں بے کس نظر آتے تھے ، بظاہر ذلیل اور حقیر نظر آتے تھے ، بظاہر نا کا رہ اور لغو دکھائی دیتے تھے مگر الہی تصرف سے ترقی کر کے وہ ایسی طاقت پکڑ گئے کہ دنیا ان کے کاموں سے حیران رہ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو جد وجہد شروع ہوئی کون کہہ سکتا تھا کہ وہ دنیا پر ایک دن غالب آکر رہے گی۔فرانس کا ایک مشہور مصنف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے ممکن ہے بعض امور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عظمت کے متعلق ہمیں محبہ میں ڈال سکتے ہوں مگر ایک چیز ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے ساتھیوں میں مجھے نظر آتی ہے اور میں جب بھی اس پر غور کرتا ہوں محو حیرت ہو کر رہ جاتا ہوں اور وہ یہ کہ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے عرب کی سرزمین میں ایک مسجد میں جس کی دیواریں گارے سے بنی ہوئی ہیں، جس کی چھت پر لکڑیاں نہیں بلکہ کھجور کی شاخیں پڑی ہوئی ہیں اور وہ اتنی کمزور ہے کہ ذرا بارش ہو تو پانی ٹپکنے لگ جاتا ہے۔اُس میں چند آدمی جمع ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ جن کے تن پر پورا لباس بھی نہیں۔اگر بعض کے پاس پاجامے ہیں تو گرتے نہیں ، اگر گرتے ہیں تو پاجامے نہیں اور اگر کسی کے پاس گر تہ اور پاجامہ ہے تو اُس کے سر پر پگڑی نہیں۔اور گر کسی کے پاس سرڈھانکنے کیلئے پھٹی پرانی پگڑی ہے تو اسے جوتی میسر نہیں۔پھر وہ کی ان پڑھ ہیں ، وہ جاہل ہیں ، وہ دنیا کے کسی علم سے واقف نہیں۔غرض میں اپنے خیال کی نگاہ میں جب اُن کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھے چند غریب اور بے کس انسان نظر آتے ہیں۔وہ ایک کچی مسجد میں بیٹھے ہیں، وہ پورے لباس سے بھی عاری ہیں ، وہ جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور سجدہ میں مجھکتے ہیں تو بارش کی وجہ سے اُن کی پیشانی کیچڑ میں لت پت ہو جاتی ہے ( یہ تمام کی