خطبات محمود (جلد 19) — Page 302
خطبات محمود ٣٠٢ سال ۱۹۳۸ء باتیں احادیث میں لکھی ہوئی ہیں) مگر جب میں قریب ہو کر سنتا ہوں کہ آپس میں وہ کیا باتیں کی کر رہے ہیں تو میرے کانوں میں یہ آواز آتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ مشورہ کر رہے ہیں کہ ہم کس طرح تمام دنیا کو فتح کر کے اسلام کو غالب کر دیں۔اور یہ ان کی باتیں جو پاگلوں کی بڑ معلوم ہوتی ہیں تھوڑے ہی عرصہ میں پوری بھی ہو جاتی ہیں۔اور وہ واقع میں ساری دنیا پر غالب آ جاتے ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ جب میں یہ بات دیکھتا ہوں تو مجھے ماننا پڑتا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کچھ کہتے تھے اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ کوئی اور زبر دست طاقت تھی جو اُن سے یہ باتیں کہلواتی تھی۔آج جو ہماری حالت ہے یہ بظاہر اُس زمانہ سے اچھی نظر آتی ہے۔ہماری یہ مسجد پختہ ہے، اس کے ستون سیمنٹ کے ہیں، اس کی چھت پر گارڈر پڑے ہوئے ہیں اور نمازیوں کے آرام کیلئے بڑے بڑے سائبان لگے ہوئے ہیں، غرض اُس زمانہ سے بظاہر ہماری حالت مختلف۔مگر جو ہمارے دشمنوں کی حالت ہے وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی حالت سے مختلف ہے۔اور اگر نسبت کے لحاظ سے غور کیا جائے تو ہر شخص کو یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ جو حالت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کے صحابہ کی دشمنوں کے مقابلہ میں تھی وہی ہماری جماعت کی موجودہ زمانہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہے کیونکہ دنیا میں ہمیشہ نسبت دیکھی جاتی ہے، تعدا د نہیں دیکھی جاتی۔اگر ایک روپیہ سے ایک شخص ایک سو روپیہ کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص ایک سو روپیہ سے دس ہزار کا مقابلہ کرتا ہے تو ان دونوں کا معاملہ بالکل یکساں سمجھا جائے گا کیونکہ جو نسبت ہے وہ قائم ہے۔یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ فلاں کے پاس ایک روپیہ تھا اور فلاں کے پاس ایک سو۔بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس نے ایک سے سو کا مقابلہ کیا اور اُس نے سو سے دس ہزار کا۔کیونکہ جو ایک اور سو میں نسبت ہے وہی نسبت ہو اور دس ہزار میں ہے اور جب نسبت ایک ہے تو دونوں کی ایک ہی حالت ہوئی۔پس اس میں کوئی طبہ نہیں کہ بظاہر ہماری حالت اچھی نظر آتی ہے مگر اس کے مقابلہ میں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ احمدیت نے جن طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے اُن کی نسبت ہماری طاقت کے مقابلہ میں کیا ہے۔بے شک ہماری مسجد کی چھت پختہ ہے، اس کا فرش بھی پختہ ہے اور اس میں لوگوں کے آرام کیلئے کی