خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 300

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ قابلیت سے دنیا محروم کر دی جائے۔غرض اسلامی تعلیم کا دائرہ اپنی وسعت کے ساتھ ان دونوں گروہوں پر حاوی ہے اور وہ دونوں کے درمیان ایک راستہ بتاتا ہے۔چنانچہ اسلامی حکومت کا دارو مدار ان دونوں اصول کے بین بین تھا۔ایک طرف وہ تسلیم کرتا ہے کہ سب انسانوں میں ذہنی مساوات نہیں۔بعض دماغ زیادہ قابلیت رکھتے ہیں اور بعض کم ، بعض زیادہ قربانیاں کر سکتے ہیں اور بعض کم ، بعض زیادہ مجھدار ہوتے ہیں اور بعض کم۔پس قوم کو زیادہ سمجھدار، زیادہ عقلمند اور زیادہ فہم و تدبر رکھنے والوں کی قابلیت سے محروم نہیں کر دینا چاہئے مگر وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ افراد کی مجموعی رائے بھی بڑی طاقت ہوتی ہے اور اس کو نظر انداز کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا بعض لوگ خیال کرتے ہیں اور نہ اسے نظر انداز کرنا انسانی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ہی ہے۔پس اسلام کا مقابلہ اِن دونوں اصول کے ساتھ ہے۔وہ ان کے بھی خلاف ہے جو افراد کو کی اتنا غلبہ دینا چاہتے ہیں کہ چیدہ افراد سے لیاقت اور قابلیت کو دنیا سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔اور وہ اس کے بھی مخالف ہیں کہ چند لائق افراد کے ہاتھ میں دنیا اس طرح دے دی جائے کہ قوم کی اکثریت کی رائے مٹا دی جائے۔پس جہاں تک دنیا کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے آئندہ دنیا کی میں اسلام کا مقابلہ یا جوج اور ماجوج سے اس رنگ میں ہوگا کہ ایک طرف افراد کی حریت قائم کی جائے گی اور دوسری طرف چیدہ افراد کی قابلیتوں سے فائدہ اٹھانے کا راستہ کھولا جائے۔مگر یہ اتنا بڑا کام ہے کہ جو اسلام کی حامل یعنی جماعت احمدیہ کی موجودہ قوتوں کو مدنظر رکھتے ہی ہوئے انسانی نقطہ نگاہ سے ناممکن نظر آتا ہے۔ان دونوں گروہوں کی پوری شوکت اگر کسی نے دیکھنی ہو تو وہ دنیا کی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی مختلف جماعتوں کو دیکھ لے اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس وقت مذکورہ بالا دو اصول کلی طور پر دنیا کو تقسیم کئے ہوئے ہیں۔آدھی دنیا ایک طرف ہے اور آدھی دوسری طرف۔اور بیچ میں بے سامان و بیکس جماعت احمد یہ ہے جو اسلامی اصول کی حمایت میں کھڑی ہے۔پس اگر اسلامی اصول نے دنیا میں ترقی کرنی ہے تو ہمارے لئے ضروری ہوگا کہ ان دونوں طاقتوں کو ایک درمیانی نقطہ پر جمع کیا جائے اور پھر اسلامی تعلیم کے ماتحت ان کو چلایا جائے مگر ایک ایسی جماعت جسے اپنے مرکز میں بھی