خطبات محمود (جلد 19) — Page 233
خطبات محمود ۲۳۳ سال ۱۹۳۸ء قائم کر کے بھی دیکھا کرتے تھے اس لئے تم بھی جا کر دیکھو۔اُس حصہ کو الگ کر دو جہاں امام کھڑا ہوتا تھا اور پھر وہاں فرضی دیوار میں قائم کرو اور پھر جو باقی جگہ بچے اس میں جو سطر میں ہوں گی اُن کا تصور کرو اور اس میں تیسری سطر قائم ہونے پر ہمیں جو حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اُس کا قیاس کرو اور پھر سوچو کہ خدا تعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں تو کیا سے کیا کر دیتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہمارا ایک کچا کوٹھا ہوتا تھا اور بچپن میں کبھی کھیلنے کیلئے ہم اُس پر چڑھ جایا کرتے تھے۔اُس پر چڑھنے کیلئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں۔اُس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آکر احمدی بھی کی ہوگئیں، مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ ”جیہو جیا کاں او ہو جئی کو کو۔میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہوتا ، اس پنجابی فقرہ کے معنے نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جیسا کو ا ہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔کوے سے مراد ( نَعُوذُ بِالله ) تمہارے ابا ہیں اور کوکو سے مراد تم ہو۔مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ وہی تائی صاحبہ اگر میں کبھی ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں۔میرے لئے گدا بچھاتیں اور احترام سے بٹھاتیں اور ادب سے متوجہ ہوتیں۔اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں ، ضعیف ہیں پلیں نہیں یا کوئی تکلف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ تو میرے پیر ہیں۔گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں ” کو کو “ تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا۔اور ان ساری چیزوں کو دیکھ کر تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ جب دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو کس طرح دل بدل دیتا ہے۔پس ان انسانوں کو دیکھو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرو کہ جو تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دے اور تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔مجھے افسوس ہے کہ تمہید میں ہی زیادہ وقت صرف ہو گیا اور ابھی گھنٹی نے بتایا ہے کہ ساڑھے تین بج چکے ہیں۔پس چونکہ تھوڑی دیر میں ہی عصر کا وقت ہو جائے گا اس لئے میں مضمون کو ختم نہیں کر سکتا۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے جمعہ میں اسے ختم کر دوں گا لیکن اس وقت پھر اختصار سے جماعت کے