خطبات محمود (جلد 19) — Page 232
خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۳۸ء مکان کسی گورنر یا ڈپٹی کمشنر کا ہو تو جس جوش سے لوگ اُس کا سامان نکالتے ہیں اُس جوش سے اگر اُس کے نوکر کے گھر میں آگ لگے تو کبھی نہ نکالیں گے۔لیکن اُسی نوکر کا سامان جب آقا کے سامان کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے تو اس کو بھی احتیاط سے نکال لیا جاتا ہے لیکن یہ نکالنا طفیلی ہوتا کی ہے۔اسی طرح اب بھی اللہ تعالیٰ تمہاری مدد تو کرتا ہے مگر یہ مد طفیلی ہے لیکن اگر تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ تو پھر تمہیں ذاتی نصرت بھی حاصل ہوگی اور طفیلی بھی۔اس وقت تمہاری نصرت اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ سمجھتا ہے کہ اس کی ذلت سے سلسلہ کی ذلت ہو گی مگر حزب اللہ میں کی داخل ہونے کے بعد اس لئے بھی نصرت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اس کی ذلت سے میری ذلت ہوگی۔اگر یہ بدنام ہوا تو چونکہ یہ میرا دوست ہے اس لئے مجھ پر الزام آئے گا کہ میں نے دوست سے وفاداری نہیں کی۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں کتنا عظیم الشان نشان دکھایا ہے۔گوتم نے اُس زمانہ کو نہیں پایا مگر ہم نے اسے پایا اور دیکھا ہے۔پس اس قدرقریب زمانہ کے نشانات کو اپنے خیال کی آنکھوں سے دیکھنا تمہارے لئے کوئی زیادہ مشکل نہیں اور نشانات جانے دو مسجد مبارک کو ہی دیکھو۔مسجد مبارک میں ایک ستون مغرب سے مشرق کی طرف کھڑا ہے۔اس کے شمال میں جو حصہ مسجد کا ہے یہ اس زمانہ کی مسجد تھی اور اُس میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دو سطر میں ہوتی تھیں۔اس ٹکڑہ میں تین دیوار میں ہوتی تھیں۔ایک تو دو کھڑکیوں کی والی جگہ میں جہاں آجکل پہریدار کھڑا ہوتا ہے اس حصہ میں امام کھڑا ہوا کرتا تھا۔پھر جہاں اب ستون ہے وہاں ایک اور دیوار تھی اور ایک دروازہ تھا۔اس حصہ میں صرف دو قطار میں نمازیوں کی کھڑی ہو سکتی تھیں اور فی قطار غالباً پانچ سات آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔اُس حصہ میں اس وقت کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی تھی اور کبھی دو ہوتی تھیں۔مجھے یاد ہے اس حصہ مسجد سے نمازی بڑھے اور آخری یعنی تیسرے حصہ میں نمازی کھڑے ہوئے تو ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی تھی۔گویا جب پندرھواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہم حیران ہو کر کہنے لگے کہ اب تو بہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔تم نے غالباً غور کر کے وہ جگہ نہیں دیکھی ہوگی مگر وہ ابھی تک موجود ہے، جاؤ اور دیکھو۔صحابہ کا طریق تھا کہ وہ پرانی باتوں کو کبھی کبھی عملی رنگ میں