خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 144

خطبات محمود ۱۴۴ سال ۱۹۳۸ء مسجدوں کی طرف نماز پڑھنے جا رہے ہوں اور وہ گر جا کی طرف جارہا ہو، مسلمان تو قرآن کی تلاوت کر رہے ہوں اور وہ انجیل پڑھ رہا ہو۔(مفہوم عبارت )۔پیغامی جب جماعت سے علیحدہ ہوئے تو انہوں نے اس حوالہ کو بگاڑ کر یوں شائع کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کیلئے وہ کیسا مصیبت کا وقت ہوگا جب ان میں ایک نبی آئے گا۔انہوں نے ایسا کو کاٹ کر اس کی جگہ ایک لکھ دیا اور اس طرح اس کے یہ معنے کر لئے کہ اب کسی قسم کا بھی نبی نہیں آسکتا حالانکہ ایسا“ کا لفظ بتا رہا ہے کہ ایک خاص قسم کے نبی کے متعلق آپ یہ فرما رہے ہیں۔تو انہوں نے ایسا کاٹ کر آرام سے اس کی جگہ ایک“ کا لفظ لکھ دیا۔ہر ایک شخص کے پاس کتاب نہیں ہوتی۔پس انہوں نے سمجھا کہ اس طرح بہت سے لوگ دھوکا کھاتے چلے جائیں گے اور حوالوں میں بھی ان کا یہی رویہ رہا ہے۔ابتدائی کتب کے حوالے لوگوں کو دکھا دیتے ہیں اور آخری کتب کے حوالوں کو چھپا لیتے ہیں۔کل ہی ایک دوست ڈاکٹر عبدالغفور صاحب کی لاش یہاں لا کر دفن کی گئی ہے۔جن دنوں وہ سلسلہ کے بارہ میں تحقیق کر رہے تھے انہیں ڈلہوزی جانے کا اتفاق ہوا۔مولوی محمد علی صاحب بھی وہاں تھے۔وہ ان سے ملنے گئے اور نبوت کے بارہ میں گفتگو شروع کی تاکہ اس مسئلہ کے بارہ میں بھی کوئی فیصلہ کر سکیں۔انہوں نے بعض حوالے اپنے مطلب کے ڈاکٹر صاحب کو دکھائے۔چونکہ ڈاکٹر صاحب مرحوم بعض ہمارے دوستوں سے بھی حوالہ جات سُن چکے تھے۔انہوں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ حقیقۃ الوحی منگوائیں اور اس کی فلاں فلاں کی عبارت کو حل کریں۔اس کے جواب میں جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے بعد میں ذکر کیا ، مولوی صاحب نے جواب دیا کہ وہ کتاب میرے پاس یہاں نہیں ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ دوسری کتب موجود ہیں مگر صرف وہ کتاب نہیں ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تعزیرات ہند قرار دیا ہے۔اور ان پر اس امر کا خاص اثر ہوا کہ ان کتب کو کی بھی یہ لوگ نہیں رکھتے جن سے ان کے عقیدوں کے خلاف ثبوت ملتا ہے۔آخر انہوں نے ۱۹۳۵ء یا ۶ ۱۹۳ ء میں میری بیعت کر لی۔تو انسان کے مد نظر جب صداقت ہو تو سب قسم کی باتیں سامنے لانی چاہئیں۔کوئی بات چھپانے کی ضرورت نہیں مگر بعض لوگ چونکہ خاص مقاصد کی