خطبات محمود (جلد 19) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۸ ترقی کر رہے ہیں ، تو یہ پہلو اختیار کر لیا کہ آپ خوشامدی تھے۔تو یہ دونوں قسم کے اعتراضات کئے گئے حالانکہ ان دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا زمین و آسمان میں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔کیونکہ زمین آسمان تو ایک وقت میں موجود ہیں لیکن یہ باتیں تو بالکل متناقض ہیں۔اگر کوئی شخص دشمن ہو تو وہ خوشامد نہیں کر سکتا اور اگر خوشامدی ہو تو دشمن نہیں ہو سکتا لیکن ان لوگوں کو تو دیانت سے تعلق نہ تھا۔جب دیکھا کہ ملک میں بیداری ہے اور پبلک کو جوش دلانے سے فائدہ ہے تو کہہ دیا کہ آپ خوشامدی تھے۔مگر جب پبلک گورنمنٹ کی کے خلاف نہ تھی اور یہ سمجھا جا تھا تھا کہ گورنمنٹ کو جماعت احمدیہ کے خلاف کرنے میں فائدہ ہے تو اُس وقت یہ کہہ دیا کہ آپ گورنمنٹ کے مخالف ہیں۔غرض جب گورنمنٹ مضبوط تھی اور لوگوں میں قومی خیالات نہ پائے جاتے تھے اُس وقت گورنمنٹ کو آپ کے خلاف کرنا چاہا اور کی جب گورنمنٹ میں کمزوری پیدا ہوئی اور پبلک میں قومی خیالات ترقی کرنے لگے تو خوشامدی کہنا جی شروع کر دیا۔اور یہ کہ آپ کو حکومت نے ہی کھڑا کیا ہے۔لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ دونوں کی باتیں غلط اور جھوٹ ہیں۔اس زمانہ میں میرے متعلق بھی یہی طریق استعمال کیا گیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب میرے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ گورنمنٹ کا خوشامدی ہے اور اب یہ کہا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کا دشمن ہے۔یہ بعینہ وہی بات ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہلے مخالف اور بعد میں خوشامدی کہا گیا اور مجھے پہلے خوشامدی اور بعد میں مخالف کہا گیا۔پہلے مجھے حکومت کا خوشامدی کہا جاتا تھا مگر بعد میں جب دیکھا کہ حکومت کے بعض افسر ہمارے دشمن ہیں تو مجھے حکومت کا دشمن کہنے لگے۔اس خیال سے کہ اس طرح بعض حکام بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔پھر ان فتنوں میں دیکھ لو جو مذہبی لحاظ سے اُٹھے ہیں کس طرح خلاف واقعہ اور غلط حوالے پیش کئے جا رہے ہیں۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں خیال ہے کہ حضرت عیسی جب دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو اسلام پر عمل کریں گے حالانکہ جب وہ مستقل نبی ہیں تو وہ اپنے دین پر عمل کریں گے۔یہ بنیا د قائم کر کے آپ لکھتے ہیں کہ اسلام کیلئے وہ کیسا مصیبت کا وقت ہوگا جب اس میں ایک ایسا نبی آئے گا کہ مسلمان تو