خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 145

خطبات محمود ۱۴۵ سال ۱۹۳۸ء ان کے مد نظر ہوتے ہیں ، جان بوجھ کر غلط حوالہ جات پیش کر دیتے ہیں اور یہی ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ ان کے پاس دلائل کوئی نہیں ہیں ورنہ انہیں جھوٹ کی کیا ضرورت تھی۔اب میں دیکھتا ہوں کہ مصری صاحب کے فتنہ میں بھی وہی طریق اختیار کیا جا رہا ہے۔صریح طور پر وہی باتیں پیش کی جارہی ہیں جن کے متعلق ہر عقلمند جانتا ہے کہ غلط ہیں۔اور ایسے حوالے پیش کئے جارہے ہیں کہ اگر ایک بچہ کے سامنے بھی رکھ دیئے جائیں تو وہ کہے گا یہ غلطکی ہیں۔کسی غیر احمدی کے سامنے دونوں حوالے رکھ دو اور یہ نہ بتاؤ کہ میرا کون سا ہے اور ان کاج کون سا ، اور اس سے پوچھو کہ کیا میرے الفاظ کا وہی مفہوم ہے جو وہ پیش کرتے ہیں۔تو وہ فوراً کہہ دے گا کہ ہر گز نہیں۔بالکل جھوٹ ہے۔یہی فخر الدین صاحب اور عزیز احمد صاحب کا واقعہ ہے۔اس مقدمہ میں ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ کیا اور اس کی بناء پر ان لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ کیا کی ہے کہ مرزا محمود احمد کے خطبات کے نتیجہ میں یقتل ہوا ہے۔اس میں شک نہیں کہ جس رنگ میں وہ فیصلہ کیا گیا اور جس رنگ میں اس کا استعمال ہوا اس سے ہم بھی متاثر ہوئے تھے اور میں نے بھی ایک مضمون لکھا تھا کہ فیصلہ میں بعض ایسے الفاظ ہیں جن کے معنے بعض لوگوں کیلئے صاف نہیں۔غرض اُس وقت ان الفاظ سے غلط مفہوم لینے کا امکان تھا اور اس وجہ سے غلط معنے کرنے والوں پر یقینی طور پر بددیانتی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا تھا۔مگر اب جبکہ ہائیکورٹ کے فاضل ججوں نے اس غلط فہمی کو دور کر دیا ہے اگر ان الفاظ کو اسی رنگ میں استعمال کیا جائے تو ہر شخص تسلیم کرے گا کہ یہ صاف بد دیانتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرک ہے۔اس پر مخالف کہتے ہیں کہ ان تمام بزرگانِ سلف کو جو اس عقیدہ کے تھے آپ نے مشرک کہا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ جب تک ایک مامور نے آکر اس غلطی کو واضح نہیں کیا اُس وقت تک یہ ایک نہایت مخفی شرک تھا جو صرف اجتہاد کی غلطی کہلا سکتا تھا اور ایسا عقیدہ رکھنا لوگوں کی کو گنہگارنہیں بناتا تھا کیونکہ لوگوں کی توجہ پھیری نہیں گئی تھی کہ یہ شرک ہے۔لیکن مامور کی طرف سے اس کی وضاحت کے بعد ایسا عقیدہ رکھنا کھلا شرک بن گیا پس اب اس کا معتقد گنہگار کہلائے گا۔