خطبات محمود (جلد 19) — Page 136
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء میسر آنے لگی ہے اور یہ میرے لئے ایک امتحان کا وقت ہے۔چنانچہ میں وہ خط لئے ایک بھٹی کے پاس گیا جس میں آگ جل رہی تھی اور جاتے ہی وہ خط اُس میں جھونک دیا اور چٹھی دینے والے سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہ دینا کہ تمہارے خط کا یہ جواب ہے۔اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ فعل ایسا پسند آیا کہ چند دنوں کے بعد ہی اس نے انہیں معاف کر دیا۔کے تو نیک آدمی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ میں کن لوگوں سے الگ ہوا ہوں اور اب کون سے لوگ کی میرے ارد گرد ہیں مگر جس کے اندر بدی ہوتی ہے اسے بُروں کی صحبت میں ہی لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو مصری صاحب کے دل میں اگر واقعہ میں سلسلہ کی محبت ہوتی اور احمدیت سے اخلاص رکھتے تو تھوڑے دنوں میں ہی وہ سمجھ جاتے کہ ایک پاک جماعت سے الگ ہوکر میں کس قماش کے انسانوں میں آملا ہوں۔وہ اپنے آپ کو مصلح کہتے ہیں مگر کیا کی مصلحین کا بدوں سے تعلق ہوتا ہے یا نیکوں سے۔پھر کیوں ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر وہ نیک تھے تو چاہئے تھا کہ نیکوں سے ان کا تعلق ہوتا نہ کہ بد وں اور آوارہ منش لوگوں سے۔مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ بسا اوقات سلسلہ کے دشمنوں اور آوارہ منش لوگوں کی مجلس میں بیٹھے ہوئے ایسے خوش ہوتے ہیں کہ گویا خدا کی خاص تائید اُنہیں حاصل ہے اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہیں ایسے لوگوں کی صحبت حاصل ہوئی۔صاف پتہ لگتا ہے کہ ان کے دل میں احمدیت سے محبت نہیں۔ورنہ ایسے لوگوں کو اپنے ارد گرد دیکھ کر چاہئے تھا کہ وہ روتے اور کی خدا تعالیٰ کے حضور تضرع اور زاری کرتے اور کہتے خدایا! تو نے کہاں سے نکال کر مجھے کہاں کی ڈال دیا۔مگر وہ اس کا نام تائید الہی اور نصرت ایز دی کہتے ہیں اور اس امر کو بھول جاتے ہیں کہ اگر یہی تائید ایزدی ہے تو یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی حاصل نہیں ہوئی۔پس اگر وہ سوچتے تو یہی نشان ان کیلئے کافی تھا اور اس سے وہ اگر چاہتے تو فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔غرض یہ سزائیں جو بعض لوگوں کو دی جاتی ہیں یہ مجبوراً دی جاتی ہیں اور محدود طور پر دی جاتی ہیں۔اور ہم سے اگر ہو سکے تو ہم تو چاہتے ہیں ان سزاؤں کو بالکل ہی مٹا دیں اور میں کئی کی دفعه خود مصری صاحب کے بارہ میں ہی غور کر چکا ہوں کہ کیا کوئی ایسا طریق ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں ہی فتنہ و فساد کا مجرم بننے کے بغیر اس سزا کو ہی ان سے دور کر دوں لیکن۔