خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 135

خطبات محمود ۱۳۵ سال ۱۹۳۸ء اور سزائیں دینے کی بھی طاقت رکھتے تھے مگر ہمارے پاس یہی ایک سزا ہے۔اگر ہم یہ سزا بھی نہ دیں تو اور کیا دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مجرموں کو کوڑے لگانے کا حکم بھی دے دیتے تھے ، آپ کے حکم سے سنگساری بھی کی گئی ہے، آپ نے بعض لوگوں کو ملک سے جلا وطن بھی کیا ت ہے اور پھر ایک وقت میں آپ نے یہ بھی حکم دے دیا کہ فلاں فلاں شخص سے کوئی بات نہ کرے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سزائیں دینے کا حق حاصل تھا تو جہاں آپ نے اور سزائیں دیں وہاں ایک دفعہ یہ سزا بھی دے دی۔مگر کیا ہم میں یہ طاقت ہے کہ ہم مجرموں کو شرعی سزا دیں؟ جب نہیں تو ہمارے پاس صرف ایک سزا کا اختیار باقی رہا اور وہ یہ کہ ہم بولنا چالنا منع کر دیں۔اگر اس سزا کو بھی ہم ترک کر دیں تو اور کونسی سزاد یں۔پس یہ سزا دینے پر ہم مجبور ہیں اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عمر بھر میں ایک دفعہ یہ سزا دی تھی اور ہماری طرف سے متعدد مرتبہ دی گئی ہے۔پھر یہ سزا جو ہماری طرف سے دی جاتی ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسرے کا اندرونہ ظاہر ہو جائے۔اگر تو اس کے دل میں سلسلہ کی محبت ہوتی ہے اور وہ جماعت سے جُدائی اپنی روح کیلئے ہلاکت کا باعث سمجھتا ہے تو جلد ہی اسے ہوش آ جاتا ہے اور وہ تو بہ کر لیتا ہے اور اگر اس کے دل میں بدی ہوتی ہے تو وہ بھی ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر اسے محسوس تک نہیں ہوتا کہ میں کن لوگوں سے کٹ کر کن لوگوں سے جا ملا۔میں نے دیکھا ہے بعض زمیندار جو ان پڑھ ہوتے ہیں ان میں سے اگر بعض کو کسی غلطی پر ایسی سزا دی جاتی ہے تو سال بھر وہ روتے ہوئے گزار دیتے ہیں اور انہیں فوراً نظر آ جاتا ہے کہ جماعت کے پاک لوگوں سے الگ ہو کر انہیں کس قسم کے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا پڑ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تین صحابہ کی ایک غلطی کی وجہ سے یہ حکم دیا کہ کوئی ان سے گفتگو نہ کرے تو ان میں سے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ جب سزا کے آخری ایام تھے تو اُن کی دنوں ایک بادشاہ کی طرف سے مجھے خط ملا جس میں لکھا تھا کہ ہم نے سنا ہے تمہارے آقا نے تمہیں سخت سزا دی ہے۔تم ہمارے پاس آجاؤ ہم ہر طرح تمہاری خاطر و مدارات کرنے کیلئے تیار ہیں۔میں نے یہ خط دیکھتے ہی کہا کہ محبت صالح سے تو میں پہلے ہی محروم تھا، اب صحبت طالع