خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 137

خطبات محمود ۱۳۷ سال ۱۹۳۸ء اب تک ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔مگر میں نے دیکھا ہے ہمارے دوست یہ امر سو چتے رہتے ہیں کہ کس طرح ان سزاؤں کو بڑھا دیں۔ی امرا چھی طرح یا درکھو کہ جس طرح بے غیرتی ایک گناہ ہے اور اس کا مرتکب خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنتا ہے اسی طرح ظلم بھی ایک گناہ ہے اور اس کا مرتکب بھی خدا تعالیٰ کے حضورا اپنے اعمال کا جواب دہ ہے مگر تم میں سے بعض ایسے ہیں کہ غیرت کا مادہ اپنے اندر نہیں کی رکھتے۔بٹالہ جا ئیں اور مصری صاحب یا ان کے ساتھی اُنہیں مل جائیں تو بڑے تپاک سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہیں گے اور جب قادیان آئیں گے اور ان کے سامنے کوئی ان کا نام لے دے گا تو کہیں گے تو بہ تو بہ ایسے آدمی کا نام ہمارے پاس کیوں لیتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہمیں ایسی رپورٹیں نہیں پہنچتیں۔رپورٹیں پہنچتی ہیں مگر ہم بغیر کسی کا رروائی کے رکھ دیتے ہیں کیونکہ سمجھتے ہیں کہ یہ فعل بے ایمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ حماقت یا بُزدلی کی وجہ سے ہے۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم بے غیرت مت بنو۔مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا؟ ہوں کہ تم ظالم بھی مت بنو۔ایسا نہ ہو کہ ایک گڑھے سے نکلو اور دوسرے گڑھے میں گر جاؤ۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم فتنہ کو روکیں۔کسی کی ذات کو نقصان پہنچانا اور ا سے بُرا بھلا کہنا نہ پہلے ہمارے مد نظر رہا ہے نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا کیونکہ دل دُکھانا اور دشمن کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال کرنا مؤمن کا کام نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔مگر یا درکھو اللہ کے انبیاء مجسٹریٹ ہوتے ہیں اور مجسٹریٹ کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ چور کو چور اور سادھ کو سادھ کہے مگر تمہارا یہ حق نہیں کہ تم کسی کو چور یا ڈا کو کہو۔پس تم اپنے مقام کو سمجھو اور جو نبیوں کا مقام ہے وہ انہی کے پاس رہنے دو۔تم اگر دشمن کی طرف سے گالیاں سنتے اور جوش دلانے والے واقعات بھی دیکھتے ہو تو تمہارا کام یہ ہے کہ تم صبر کرو اور ساتھ ہی استغفار کرتے چلے جاؤ تا ایک طرف تمہارے دل پر بے غیرتی کا زنگ نہ لگے اور دوسری طرف ظالموں والا غصہ پیدا نہ ہو ، یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے۔وہ تمہیں ایسے مواقع پر استغفار کی تعلیم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جب تم دشمن کی دل آزار باتیں سنو تو استغفار کرو اور استغفار پڑھنے سے ایک طرف تم ظالم نہیں