خطبات محمود (جلد 19) — Page 124
خطبات محمود ۱۲۴ سال ۱۹۳۸ء ان پر اتنا اثر ہوا کہ ایک دفعہ جبکہ مجلس میں بعض اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے، برسبیل تذکرہ وہ کہنے لگے کہ گجرات کا ہر شخص چور ہوتا ہے۔میرے ذہن میں اُس وقت یہ حکایت نہیں تھی۔کی میں نے کہا یہ صحیح نہیں۔ہر علاقہ میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں۔کہنے لگے نہیں گجرات کا ہر شخص چور ہوتا ہے۔میں نے کہا میر صاحب ! آپ کی یہ بات درست نہیں۔ہماری جماعت میں بھی اس علاقہ کے لوگ شامل ہیں اور وہ بڑے نیک ہیں۔وہ میری اس بات پر بھی کہنے لگے خواہ کچھ ہو چور ضرور ہوں گے۔میرا ذہن اُس وقت تک بھی اس قصہ کی طرف نہیں گیا اور میں نے چند دوستوں کے نام لئے کہ دیکھیں فلاں دوست کیسے نیک ہیں ، فلاں دوست کیسے نیک ہیں۔وہ کہنے لگے اگر وہ گجرات کے ہیں تو چور ضرر ہوں گے۔اس دوران میں چونکہ ایک مذاق کی صورت پیدا ہوگئی تھی اس لئے میں نے نام لے کر کہا کہ حافظ روشن علی صاحب گجرات کے علاقہ کے ہیں ، کیا وہ بھی چور ہیں؟ میرے اس جواب پر میر صاحب کہنے لگے حافظ روشن علی صاحب کی گجرات کے ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔اس پر وہ پہلے تو ذرا رک گئے پھر بولے اگر وہ گجرات کے ہیں تو وہ بھی چور ہوں گے۔آخر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے وثوق سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ وہاں تو دستور ہے کہ بچہ کے سر پر اُس وقت تک پگڑی نہیں باندھتے جب تک وہ ایک بھینس چرا کر گھر میں نہ لے آئے۔اس تشریح سے غالبا گجرات کی کے دوستوں کے دل کی تکلیف جاتی رہے گی۔ورنہ پہلے تو انہیں ان کی بات بُری ہی لگی ہوگی۔اب یہ جو رسم ان علاقوں میں ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ ان اضلاع میں چونکہ ہر وقت جانوروں کی چوری کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس لئے سارے علاقہ میں چوری کا رواج ہو گیا ہے۔یوں اگر وہ سنیں کہ کسی نے دوسرے کا روپیہ اُٹھا لیا ہے تو وہ بھی بُرا مناتے ہیں لیکن جانوروں کی چوری کے ذکر پر ان کے دلوں میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا ذکر ان میں عام ہے اور جس بدی کا ذکر عام ہو جائے وہ قوم کے افراد میں پھیل جاتی ہے۔اسی طرح پٹھانوں میں قتل کا رواج ہے اور وہ اسے کوئی عیب نہیں سمجھتے کیونکہ ہر وقت ان میں قتل کا چرچا رہتا ہے۔مثل مشہور ہے کہ کسی پٹھان کا لڑکا ایک ہندو سے پڑھتا تھا۔ایک دن استاد کسی بات پر ناراض ہو ا تو لڑکے نے تلوار اُٹھالی اور چاہا کہ اسے قتل کر دے۔وہ ہند و آگے آگے بھاگا اور