خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 123

خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۳۸ء دنوں میں تم دیکھو گے کہ ڈاکہ کی وارداتیں زیادہ ہونے لگیں ہیں جیسے گجرات، شیخو پورہ اور کی گوجرانوالہ وغیرہ اضلاع میں کئی بڑے بڑے شریف نمازی اور تہجد گزار کہلانے والے دوسرے کی بھینس کھول کر گھر لے آئیں گے اور اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں کریں گے کہ انہوں نے کوئی بُرا کام کیا ہے۔میرے ایک دفعہ گھوڑے چوری ہو گئے۔تو ایک احمدی نے جو پہلے چوروں کے ساتھ مل کر چوریاں کیا کرتے تھے مجھے کہلا بھیجا کہ آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم سارے علاقہ کوسیدھا کر دیتے ہیں۔میں نے پیغامبر کو جواب دیا کہہ دینا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں تو بہ کی توفیق عطا فرمائی ہے، اب یہی بہتر ہے کہ آپ اپنی تو بہ پر قائم رہیں اور اس کو توڑنے کی کوشش نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور گھوڑے دے دے گا۔غرض بعض علاقوں میں جانوروں کی چوری کی اتنی کثرت ہے کہ اسے اعلیٰ درجہ کا بہادری کا فن سمجھا جاتا ہے۔مثلاً گجرات کے علاقہ میں ہی بعض اقوام میں پہلے یہ رواج ہوا کرتا تھا گواب شاید نہیں کہ بیٹے کو پگڑی نہیں پہناتے تھے جب تک وہ ایک چوری کی بھینس اپنی بہن کو لا کر نہ دے۔لڑکا جب جوان ہو جاتا اور پگڑی اُس کے سر پر نہ ہوتی تو اپنے رشتہ دار سے طعنے دیتے اور کہتے بے حیا! اتنا بڑا ہو گیا ہے مگر اب تک اس سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ایک بھینس چرا کر اپنی بہن کو لا دے اور اپنے سر پر پگڑی بندھوائے۔اس طرح پر ہر نوجوان کو چوری پر مجبور کیا ؟ جا تا اور وہ بڑا ہو کر جانوروں کا چور بنتا۔ہماری جماعت کے ایک مخلص احمدی ہیں بلکہ اب تو وہ ہجرت کر کے قادیان آئے ہوئے ہیں۔جب وہ شروع شروع میں آئے تو ان کا ایک لڑکا ان کے ساتھ تھا جس کے سر پر پگڑی نہیں تھی۔ہماری والدہ صاحبہ حضرت اماں جان نے گھر میں ان کی اہلیہ سے دریافت کیا کہ اس بچے کے سر پر پگڑی کیوں نہیں تو اس نے بتایا کہ جب یہ کسی کی بھینس چرا کر اپنی بہن کو لا کر دے گا تب اس کے سر پر پگڑی باندھی جائے گی۔کیونکہ یہ ہمارے علاقہ کا دستور ہے۔گو وہ دوست ہمیشہ یہ واقعہ سُن کر شرمندہ ہوا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بات نہیں تھی میرے گھر والوں نے صرف ہنسی سے ایسا ذ کر کیا تھا مگر بہر حال ان کے علاقہ میں یہ رواج تو تھا تبھی ان کی اہلیہ نے ذکر کی کیا۔یہی بات ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے سنی تو اس کا کی