خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 125

خطبات محمود ۱۲۵ سال ۱۹۳۸ء لڑکا پیچھے پیچھے۔وہ بھاگتا جا رہا تھا کہ رستہ میں اس لڑکے کا باپ مل گیا اس نے یہ سمجھتے ہوئے کہ باپ اسے روک لے گا کہا خان صاحب دیکھئے آپ کا لڑکا مجھے قتل کرنا چاہتا ہے اسے رو کئے۔اب خان صاحب بجائے اس کے کہ اپنے لڑکے کو روکتے اُس ہندو کو گالی دے کر کہنے لگے او بنئے ! کیا کر رہا ہے میرے بیٹے کا پہلا وار ہے، یہ خالی نہ جائے۔غرض جب اشاعتِ مخش ہو اور کی بدی کا ذکر عام طور پر لوگوں کی زبان پر ہو تو وہ بدی قوم میں پھیل جاتی ہے اسی لئے ہماری شریعت نے عیوب کا عام تذکرہ ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا ہے جو اولی الامر ہیں ان تک کی بات پہنچا دو اور خود خاموش رہو۔اگر ایسا نہ کیا جائے اور ہر شخص کو یہ اجازت ہو کہ وہ دوسرے کا جو عیب بھی سنے اسے بیان کرتا پھرے تو اس کے نتیجہ میں قلوب میں سے بدی کا احساس مٹ۔ہے اور بُرائی پر دلیری پیدا ہو جاتی ہے۔پس اسلام نے بدی کی اس جڑ کو مٹایا اور حکم دیا کہ تمہیں جب کوئی بُرائی معلوم ہو تو اولی الاخر کے کے پاس معاملہ پہنچاؤ جو سزا دینے کا بھی اختیار رکھتے ہیں اور تربیت نفوس اور اصلاح قلوب کیلئے اور تدابیر بھی اختیار کر سکتے ہیں۔اسی طرح بدی کی کی تشہیر نہیں ہوگی ، قوم کا کریکٹر محفوظ رہے گا اور لوگوں کی اصلاح بھی ہو جائے گی۔پس یا درکھو کہ نیکی کی تشہیر اور بدی کا اخفا یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ قومیں اس سے بنتی اور قو میں اس سے بگڑتی ہیں۔جتنا تم اس بات کا زیادہ ذکر کرو گے کہ فلاں اتنی قربانی کرتا ہے، فلاں اس طرح نمازیں پڑھتا ہے، فلاں اس اہتمام سے روزے رکھتا ہے، اتنا ہی لوگوں کے دلوں میں دین کیلئے قربانی کرنے اور نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے کی خواہش پیدا ہوگی۔اور کی جتنی تم اس بات کو شہرت دو گے کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، وہ خیانت کرتے ہیں ، وہ چوری کرتے ہیں ، وہ ظلم کرتے ہیں ، اتنا ہی لوگوں کو ان بدیوں کی طرف رغبت پیدا ہوگی اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جب تم کسی کی نیکی دیکھو تو اسے خوب پھیلا ؤ اور جب کسی کی بدی دیکھو تو اس پر پردہ ڈالو۔ایک بلی بھی جب پاخانہ کرتی ہے تو اُس پر مٹی ڈال دیتی ہے پھر انسان کیلئے کس قدر ضروری ہے کہ وہ بدی کی تشہیر نہ کرے بلکہ اُس پر پردہ ڈالے اور اس کے ذکر سے اپنے آپ کو روکے۔اگر اس ذکر سے اپنے آپ کو نہیں روکا جائے گا تو متعدی امراض کی طرح وہ بدی قوم کے دوسرے افراد میں سرایت کرے گی اور خود اس کا خاندان تو