خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 102

خطبات محمود ۱۰۲ سال ۱۹۳۸ء اسی طرح یہ شرط کہ آنہ فی روپیہ چندہ مقرر ہے یا پانچ پیسے فی روپیہ، بالکل غلط ہے۔مقر ر تو ایک پیسہ بھی نہیں خواہ اس فقرہ سے فائدہ اُٹھا کر بعض لوگ کہہ دیں گے کہ دیکھو جب اب انہوں نے اقرار کر لیا ہے کہ مقرر ایک پیسہ بھی نہیں تو ہم زیادہ چندہ کیوں دیں ، مگر حقیقت یہی ہے کہ خواہ ہم آنه فی روپیہ چندہ کہیں یا پانچ پیسہ فی روپیہ مقرر کچھ بھی نہیں۔مقر ر سلسلہ کی ضروریات کے لحاظ سے ہے۔اگر سلسلہ کی ضروریات یہ تقاضا کرتی ہوں کہ ہم آنہ یا پانچ پیسہ کی بجائے پورا روپیہ کی ہی سلسلہ کے حوالے کریں تو اُس وقت ہمارا یہی فرض ہے کہ ہم روپیہ دیں اور اگر پیسہ کی ضرورت ہوتو اس وقت پیسہ دینا پڑے گا۔کوئی کہے کہ اس طرح روپیہ جمع کس طرح ہوسکتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ دنیوی گورنمنٹیں بے شک روپیہ جمع کرتی ہیں لیکن اسلامی گورنمنٹیں روپیہ جمع نہیں کیا کرتیں اور نہ ہمارا حق ہے کہ روپیہ جمع کریں۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی زمانہ کی میں نقد روپیہ جمع کی صورت میں بہت کم نظر آتا تھا۔گو کچھ جائیدادیں ضرور محفوظ کی گئی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو روپیہ رکھتے ہی نہیں تھے بلکہ جو کچھ آتا اسے تقسیم کر دیتے تھے۔کی بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں روپیہ اس لئے جمع نہیں رکھتے کی تھے کہ آپ پر الزام نہ آئے مگر یہ غلط خیال ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نہ صرف اپنے گھر میں روپیہ جمع نہیں رکھتے تھے بلکہ آپ نے کوئی خزانہ بھی نہ بنایا ہو ا تھا۔جس قدر روپیہ آتا وہ آپ تقسیم فرما دیتے اور سمجھتے تھے کہ جب اور ضرورت کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اور بھیج دے گا۔یہ آپ کے تو کل کا اعلیٰ مقام تھا۔ہر شخص یہ طریق اختیار نہیں کر سکتا مگر بہر حال منہاج نبوت یہی ہے کہ روپیہ جمع نہ ہو بلکہ خرچ ہوتا رہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کر لوگوں کے کندھوں سے پھاندتے ہوئے جلدی جلدی گھر تشریف لے گئے۔صحابہ کچھ حیران سے ہوئے کہ اتنی جلدی رسول کریم صلی اللہ کی علیہ وسلم گھر میں کیوں تشریف لے گئے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر کسی کام کیلئے واپس آئے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کچھ مال بھیجا تھا جو میں نے تقسیم کر دیا۔صرف دو دینار باقی تھے۔میں نماز پڑھا کر جلدی جلدی گھر گیا اور مجھے خیال آیا کہ وہ اب تک کیوں پڑے ہیں چنانچہ میں اب انہیں تقسیم کر کے آیا ہوں۔نے پس یہی نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں روپیہ