خطبات محمود (جلد 19) — Page 103
خطبات محمود ۱۰۳ سال ۱۹۳۸ء جمع نہیں رکھتے تھے بلکہ آپ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہوا تھا کہ میں خزانہ سرکاری میں بھی روپیہ جمع نہیں کی کیا کروں گا۔چنانچہ جس قدر روپیہ آتا آپ اُسی وقت تقسیم کر دیتے۔البتہ بعض اوقات کچھ رکھ بھی لیتے مگر بالعموم آپ کا طریق یہی تھا کہ اپنے پاس کچھ نہ رکھتے۔ہاں اگر کوئی عارضی ضرورت سامنے ہوتی تو کچھ رکھ لیتے مگر وہ بھی زیادہ عرصہ کیلئے نہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی یہی طریق جاری رہا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں البتہ کچھ جمع کیا جاتا رہا مگر وہ بھی زیادہ تر اس لئے کہ بعض بڑو اور دوسرے غرباء آجاتے تھے اور ان کیلئے آئے ، دانے ، گھی ، شہد اور نقدی وغیرہ کی ضرورت ہوتی تھی۔پس کسی حد تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ چیزیں جمع رکھتے تھے۔وگر نہ عام طور پر جو مال آتا اسے آپ بھی تقسیم ہی کر دیا کرتے تھے۔غرض خلفاء کے زمانہ میں روپیہ جمع کرنے کا رواج ہمیں کہیں نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ بعض زمینیں جو فتوحات میں حاصل ہوئیں آئندہ ضرورتوں کیلئے محفوظ رکھ لی جاتی تھیں۔اور نہ معین معاوضے لوگوں کو ملا کرتے تھے۔اگر حکومت کے پاس روپیہ زیادہ آجاتا تو لوگوں کو زیادہ دے دیا جاتا اور اگر تھوڑا آتا تو تھوڑا دے دیا جاتا۔یہ طریق تھا جس پر اُس زمانہ میں کام ہوتا تھا اور یہی منہاج نبوت ہے۔مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کام کرنے والے کہیں کہ ہم معتین معاوضے نہیں لیں گے بلکہ سلسلہ کو جس قدرآمد ہوگی اُس نسبت سے ہمیں جو کچھ کی دیا جائے گا اسے ہم بخوشی قبول کریں گے۔غرض ہمارے بہت سے کاموں میں ابھی تبدیلی کی ضرورت ہے اور وہ منہاج نبوت پر نہیں بلکہ منہاج مغرب پر قائم ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان حالات کو بدل دیں۔اگر کوئی کہے جب یہ معاملہ اس قدر ضروری ہے تو اس وقت تک چُپ کیوں رہے ہو یا کیوں ابھی تبدیلی کی نہیں کر دیتے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس وجہ سے میرے بڑے خاموش رہے اسی وجہ سے میں بھی خاموش ہوں اور اصل بات یہ ہے کہ اسلام نے کاموں میں تبدیلی آہستہ آہستہ پسند کی ہے، فوری طور پر تبدیلی پسند نہیں کی لیکن بہر حال یہ کام خواہ آج ہو یا آج سے چند سال بعد، ہو کر رہے گا اور ہمیں اپنے تمام کاموں کو اسلامی بنیاد پر لانا پڑے گا اور بڑوں اور چھوٹوں کے معاوضوں کے اس طریق کو مٹانا پڑے گا جو اس وقت جاری ہے اور وہی راہ عمل اختیار کرنا