خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 101

خطبات محمود 1+1 سال ۱۹۳۸ء بالکل غلط ہے کہ نتیجہ خواہ نکلے یا نہ نکلے لوگوں کا جو حق مقرر ہے وہ انہیں دے دیا جائے۔صد را منجمن احمدیہ کی بنیاد اب تک اس امر پر ہے کہ ہر شخص کا ایک حق مقر ر ہے۔خواہ چندہ جمع ہو یا نہ ہو، خواہ تھوڑا آئے یا بہت آئے۔انہیں اپنا حق ضرور ملنا چاہئے۔مگر یہ منہاج نبوت نہیں بلکہ منہاج مغرب ہے۔مغرب کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کسی نے اپنا کام کر دیا تو اس کا اب یہ حق ہو گیا کہ وہ ہم سے اُجرت کا مطالبہ کرے حالانکہ یہ اصل بندوں کے لحاظ سے تو درست تسلیم کیا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے لحاظ سے درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی اس کی بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے کہ خدا ہر نیک کام کی جزا دینے والا ہے اور اگر کسی کو اس جہان میں کی بدلہ نہ ملے تو اگلے جہان میں مل کر رہے گا لیکن جو شخص اس بات کو مانتا ہے وہ گویا اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ میرا معاملہ بندوں سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔اگر بندوں کی طرف سے مجھے کچھ بھی نہ ملا تب بھی خدا میرے اجر کو ضائع نہیں کرے گا اور وہ اگلے جہان میں اپنی نعمتوں سے مجھے مالا مال کر دے گا۔پس اس کیلئے کسی معین اُجرت کا ہونا بالکل بے معنی بات ہے۔اگر ایک کی بادشاہ کا کوئی شخص ایک مہینہ تک کام کرے اور وہ دنیا میں اسے کام کی اُجرت نہ دے تو کیا وہ کی بادشاہ اس امر کی طاقت رکھتا ہے کہ اگلے جہان میں اسے اس کے کام کی جزاء دے۔اگلے جہاں میں تو وہ خود مدد کیلئے دوڑتا پھرے گا ، اسے کہاں دے گا۔پس اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ملازم کو اسی جہان میں اس کی مزدوری دے۔لیکن جو لوگ ایک نبی کی جماعت میں داخل ہوں اور منہاج نبوت پر کام کر رہے ہوں وہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر اس جہان میں انہیں کام کاج معاوضہ نہ دیا گیا تو اگلے جہاں میں انہیں نہیں مل سکے گا۔کیونکہ ان کا مالک خدا ہے اور اگر اس جہان میں انہیں اپنے کاموں کا بدلہ نہ ملا تو اگلے جہان میں بہتر سے بہتر بدلہ مل کر رہے گا پس مقررہ بدلہ ان لوگوں کے ذمہ ہوتا ہے جو دوسرے وقت میں بدلہ نہیں دے سکتے لیکن جو دوسرے وقت میں بھی بدلہ دے سکتا ہو بلکہ اگر اس جہان میں بدلہ نہ ملے تو اگلے جہان میں بھی کی دے سکتا ہو۔اس کے مقابلہ میں کسی قسم کی شرط جائز نہیں ہوسکتی۔پس ابھی ہمارے بہت سے کام منہاج مغرب پر ہیں منہاج نبوت پر نہیں ہیں اور جب تک ہم اپنے ان کاموں کو منہاج نبوت پر نہیں لائیں گے، کامیابی کا منہ ہر گز نہیں دیکھ سکتے۔