خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 96

خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۷ء سے ہی فعل سے ہے تو اس کا علاج کرو، تو بہ کرو اور ان باتوں کو دور کرو۔اگر قومیت کی پابندی کی وجہ۔دقت ہورہی ہے تو دیکھو جب دوسرے احمدی اسے ترک کر چکے ہیں تو تم بھی کر دو۔اگر تنخواہ کی کمی کی وجہ سے ہے تو دیکھو جب دوسرے احمدیوں نے اس کا خیال نہیں کیا تو تم بھی اسے چھوڑ دو۔دیکھو میری ایک ہی لڑکی بیاہی گئی ہے اور اُس وقت لڑکا کوئی کام بھی نہ کرتا تھا اور اب بھی وہ کام کرنے کی کوشش ہی کر رہا ت ہے آمدن کی صورت نہیں پیدا ہوئی۔بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ وہ آپ کا عزیز ہے لیکن تم بھی اپنے غریب عزیزوں میں شادیاں کر لو اور اگر احمدی عزیز نہ ملیں تو پھر اس قربانی کو وسیع کر کے دوسرے احمدیوں سے جو بھی مل سکیں رشتے کرلو۔میں نے اگر اپنے ایک ایسے عزیز کو جس کیلئے دنیوی طور پر کوئی ترقی کا راستہ گھلا نہ تھا چنا ہے تو اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے ہی اگر دونوں فریق ہوں تو دوہری برکت ملے گی۔دوسرے لوگ بھی اپنے احمدی عزیزوں میں شادی کریں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔سوال تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ رشتوں کی دقتوں کو دیکھ کر غیر احمدی عزیزوں کی طرف جھکتے ہیں۔ان لوگوں کے لئے بہتر تھا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق رشتہ نہ ملتا تو اپنی خواہشوں کو قربان کرتے نہ کہ دین کو قربان کرتے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے تو اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حکم دیں تو ی چوہڑے سے بھی اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کو تیار ہوں۔اس کا مطلب یہی تھا کہ حضور کی تعلیم کے مطابق اگر ایسا کرنا پڑے تو عذر نہ ہوگا فرض کرو ایک وقت ایسا آئے کہ سیدوں ، مغلوں، پٹھانوں وغیرہ قوموں میں کی کوئی احمدی رشتہ نہ ملے تو اگر ایک چوہڑا احمدی ہی میسر ہو تو اس سے رشتہ کرنے میں کوئی عذر نہ ہوگا کیونکہ بہر حال اسے دین حاصل ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے معنے ہی یہی ہیں کہ اگر کسی کو کوئی بی۔اے پاس رشتہ ملتا ہو تو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا یہ تقاضا نہیں کہ وہ اس کے ساتھ رشتہ نہ کرے۔لیکن اگر نہ ملے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی آنکھیں نیچی کرے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنے کو اتنی اہمیت تو دے جتنی میراثی نے دورویے کو دی تھی۔اگر خدا تعالیٰ سارے ہندو، مسلمانوں ، سکھوں اور عیسائیوں کو احمدی بنادے تو ہماری تو خواہش ہے کہ ایک غریب سے غریب اور کنگال سے کنگال احمدی کی لڑکی بھی کسی گورنر یا وائسرائے کے بیٹے سے بیاہی جائے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر ایسا رشتہ نہ ملے تو کیا یہ بہتر ہے کہ کسی گورنر کے لڑکے کے