خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۳۷ء میں قادیان والوں کو خصوصیت سے تنبیہ کرتا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ پانچ سات سال کے عرصہ میں ان کیلئے سخت مشکلات پیدا ہوں گی۔لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور تعلیم بھی ایسے رنگ میں دلائی جارہی ہے کہ وہ نوکریاں حاصل کر سکیں۔اس کے نتیجہ میں یا خاندانوں کی بربادی ہوگی اور یا پھر ایسی شادیاں ہوں گی جن کا باہم نباہ نہ ہو سکے گا۔کل میرے سامنے ایک واقعہ آیا ہے۔ایک غریب ماں ہے جو محنت کر کے پیٹ پالتی ہے۔اس کی لڑکی نے میں نے سنا ہے اُس سے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ میرے معاملہ میں تم کوئی دخل نہ دو۔سوچنا چاہئے کہ یہ باتیں کیوں پیدا ہورہی ہیں؟ صرف اس لئے کہ غلط تعلیم دی گئی۔اگر ان کو قرآن شریف پڑھا یا جا تا ، حدیث پڑھائی جاتی تو کیا یہ کم علم تھا؟ اگر اس علم کی طرف لگایا جائے تو اس میں بھی دس پندرہ سال لگ جاتے ہیں اور گویا وقت کے لحاظ سے ایم۔اے تک کی تعلیم ہو جاتی ہے۔مگر کیا اس تعلیم کے نتیجہ میں ایسے خیالات پیدا ہو سکتے ہیں؟ پس یہ سب اس غلط تعلیم کا نتیجہ ہے جسے یورپ نے پھیلایا ہے اور وہ لوگ اندھے ہیں جو اس کے پیچھے چل رہے ہیں اور پھر اعتراضات مجھ پر کرتے ہیں۔حالانکہ اگر تو ہم ان لڑکوں کو جو ولایت سے پاس کر کے آتے ہیں اپنے خاندان کی لڑکیوں کیلئے سنبھال لیتے تو البتہ یہ ای اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ آپ سنبھال لیتے ہیں۔ایسے لوگ جماعت میں پندرہ بیس سے زیادہ نہیں ہیں۔اب ان پندرہ بیس میں سے اگر ایک بھی ہم لے لیتے تو پھر بھی کہا جا سکتا تھا۔لیکن جب ایسا نہیں تو مجھے پر الزام کیسا۔میں پندرہ ہیں کو چالیس پچاس تو بنا نہیں سکتا میں تو زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتا تھا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنے خاندان کی کسی لڑکی کیلئے نہ لیتا اور یہ میں نے کر دیا۔اب آگے جو بات خدا تعالیٰ کے اختیار کی ہے وہ تو میں کرنے سے رہا۔دراصل یہ اعتراض بھی مغربیت کے ماتحت ہے۔مغربیت کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ شور مچاتے رہو کہ ہم مظلوم ہیں۔یورپ میں امراء کے پاس کی کروڑوں روپیہ ہے پھر بھی وہ شور مچاتے رہتے ہیں اور حکومت سے لڑتے رہتے ہیں کہ ٹیکس بہت زیادہ ہیں ، ہم مرے جارہے ہیں۔ہندوستان کا زمیندار ایک وقت بھی پیٹ بھر کر روٹی نہیں کھا سکتا لیکن وہاں کا مزدور تین سو روپیہ ماہوار کما لیتا ہے جو یہاں کے ای۔اے سی کی تنخواہ ہے۔مگر پھر بھی شور مچاتا رہے گا کہ بھوکے مر گئے۔تو مغربیت کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ ہم مر گئے۔آخر خدا تعالیٰ ایک روز کہے گا کہ مرجاؤ۔اب تم بھی اُن کی نقل کرتے ہو کہ ہم مر گئے مگر یہ نہیں سوچتے کہ کس کے فعل کی وجہ سے۔اگر یہ مرنا اپنے