خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 83

خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۳۷ء کیا جائے تا کہ سیاسی لوگوں کی امداد اور ان کی تائید میسر رہے اور ساتھ ہی مذہب سے دلچپسی رکھنے والوں کا ایک حصہ بھی ان کی تائید میں کھڑا رہے۔بیشک دنیوی نقطہ نگاہ سے یہ بات ٹھیک ہے مگر روحانی نقطۂ نگاہ سے یہ تجویز اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی معرفت کی ان کی قوم کو کہلوایا تھا کہ جاؤ اور اپنے ساتھیوں کو جمع کرو۔یہاں بھی وہ اپنے ساتھیوں کو ہمارے خلاف جمع کرنے لگے ہیں۔کیونکہ جب وہ سیاسی اختلافات کو ترک کر دیں گے اور خالص مذہبی اختلاف کا سوال رہ جائے گا تو سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کے لوگ ان کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے۔پس اگر ان وہ سیاسی نقطہ نگاہ سے یہ طریق اختیار کریں اور اس پروگرام پر عمل کریں جس کا اخبارات میں ذکر آیا ہے تو تی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیوی نقطہ نظر سے اُن کی پارٹی مضبوط ہو جائے گی۔کیونکہ پہلے وہ اپنی طاقت کا کچھ حصہ سیاست میں خرچ کرتے تھے اور کچھ مذہبی معاملات میں۔لیکن اب ایک ہی طرف اپنی تمام طاقتوں کا رحجان رکھیں گے۔گویا اجمعُوا أَمْرَكُم لے بھی ہو جائے گا۔اب صرف ایک تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے جو میں انہیں یاد دلا دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذریعہ اُن کی قوم کو یہ بھی توجہ دلائی تھی کہ نہ صرف تم اپنے سارے شرکاء کو جمع کرو اور نہ صرف ایک خاص پالیسی اپنے لئے تجویز کرلو بلکہ تمہارے سامنے ایک تفصیلی پروگرام بھی ہونا چاہئے تا مقابلہ کا کوئی طریق باقی نہ رہی جائے۔سواگر یہ تیسری بات احرار کو یاد نہ ہو تو میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ قرآن کریم نے دُنیوی امور میں کامیابی حاصل کرنے کا تیسرا طریق یہ بتایا ہے کہ نہ صرف تمہارے سامنے ایک پالیسی ہو بلکہ ایک مفصل پروگرام بھی ہونا چاہئے۔جس پر گلی طور پر نظر ڈال کر اور عواقب اور انجام سوچ کر دیکھ لو کہ اگر دشمن نے یوں کیا تو ہم یوں کریں گے۔اور اگر ہماری تدابیر کو اُس نے اس طرح باطل کیا تو ہم اس طرح کام کریں گے۔گویا ضرر اور نقصان پہنچانے کے جس قد ر طریق ممکن ہیں وہ سب سوچ رکھیں اور پھر چوتھی بات یہ بھی ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے کہلوائی کہ اچانک حملہ کر دو اور ہمیں ذرہ بھر بھی ڈھیل نہ دو پھر دیکھو کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔میں بھی احرار سے وہی کہتا ہوں جو حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا۔مگر وہ یا درکھیں وہ افراد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن اس سلسلہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ان کے تمام اتحاد، ان کی تمام پالیسیاں اور ان کے تمام پروگرام هَبَاءً مَنْشُورًا کے ہوکر رہ جائیں گے اور انہیں اپنے مقصد میں ذرہ بھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔