خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 84

خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۷ء ممکن ہے وہ اس کے مقابلہ میں ایک دوسری پالیسی اختیار کریں جس کا گوا بھی ان کی پارٹی کی طرف سے اعلان نہیں ہو ا مگر مجھے اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔یعنی یہ کہ وہ فی الحال مذہبی جھگڑے چھوڑ دیں اور کانگرس کے ساتھ اتحاد کر لیں۔ہماری کانگرس سے کوئی لڑائی نہیں۔ملک کی آزادی کے متعلق است کے جو مقاصد ہیں اس سے ہم پوری طرح متفق ہیں۔گو ان کے طریق کار اور ہمارے طریق کار میں اختلاف ہے اور ہم کانگرس میں کام کرنے والوں کے ایثار اور ان کی قربانیوں کے بھی قائل ہیں۔مگر وہ ہمیں معاف رکھیں ، مذہبی معاملہ میں کسی کی رعایت نہیں کی جاسکتی۔اگر احرار اس تدبیر کو بھی اختیار کریں اور وہ چاہیں کہ کانگرس سے مل کر جماعت احمدیہ کو کچل دیں تو گو یہ منظم پالیسی ہوگی لیکن جس طرح احرار کا حکومت سے اتحاد کامیاب نہیں ہوا کانگرس سے ان کا اتحاد بھی کامیاب نہیں ہوگا اور یا تو یہ اتحاد ٹوٹ جائے گا اور کانگرس ان کی خود غرضیوں پر آگاہ ہو کر ان سے الگ ہو جائے گی یا پھر دونوں ہی تباہی ہو جائیں گے۔اور میں سمجھتا ہوں احرار جیسی بے اصول جماعت کسی جماعت سے اتحاد نہیں رکھ سکتی۔میرا غالب گمان یہی ہے کہ جس طرح گورنمنٹ پر احرار کی حقیقت کھل گئی ہے اسی طرح کانگرس پر بھی یہ حقیقت کھل جائے گی کہ احرار ایک زرطلب جماعت ہے جس کا کوئی اصول نہیں ، اس کے ارکان اپنی ذاتی ترقی اور جاہ کے بھوکے ہیں اس کے علاوہ ان کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔جس دن کا نگرس پر یہ تی حقیقت ظاہر ہوگئی اُس دن وہ کانگرس کی امداد سے بھی محروم ہو جائیں گے جس طرح ان حکام کی امداد سے یہ محروم ہو چکے ہیں جو پہلے ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور انہیں بڑی بڑی امید میں دلاتے تھے۔مگر یہ سب کچھ خدائی ہاتھوں سے ہوگا نہ کہ انسانی ہاتھوں سے۔کیونکہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ایک کا دو سے مقابلہ ہو سکتا ہے، تین سے مقابلہ ہو سکتا ہے، دس بیس سے مقابلہ ہو سکتا ہے لیکن چند لاکھ کا کروڑوں سے کس طرح مقابلہ ہو سکتا ہے۔پس ضروری ہے کہ جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے ان عظیم الشان فضلوں کا شکر ادا کریں جو اس کی نے ہماری سابقہ دعاؤں کو قبول کر کے نازل فرمائے وہاں ہم عاجزانہ اور منکسرانہ طور پر پھر اس سے دعا کریں کہ اے خدا! تیرے فضلوں نے ہمارے بہت سے مصائب کو ٹال دیا ہے لیکن بہت سے مصائب ابھی باقی ہیں ، حکومت کی طرف سے بھی اور افراد کی طرف سے بھی ، منظم پارٹیوں کی طرف سے بھی اور متفرق لوگوں کی طرف سے بھی۔پس تو آپ ہی ہم پر فضل فرما اور ہماری عاجزانہ التجاؤں کوسن۔ہمیں