خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 82

خطبات محمود ۸۲ سال ۱۹۳۷ء ہیں ان میں ہم ہر مہینہ کے پہلے ہفتہ میں پیر کا اور ہر مہینہ کے آخری ہفتہ میں جمعرات کا روزہ رکھیں۔اس کی طرح چودہ روزے ہو جائیں گے اور گو ہر ہفتہ کے پیر اور جمعرات کا روزہ نہیں ہوگا مگر ہر مہینہ میں ایک پیر اور ایک جمعرات کا روزہ ہو جائے گا اور ہماری دعائیں سات مہینوں میں پھیل جائیں گی۔ان چودہ روزوں میں سے سات روزے تو شکریہ کے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بعض فتنے دور کر دیئے اور سات روزے اُن ابتلاؤں کیلئے ہوں گے جو ابھی قائم ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دور کرے اور ان کے بداثرات سے ہماری جماعت کو محفوظ رکھے۔وہ لوگ جن کی آنکھیں ہیں، جو واقعات کو دیکھ سکتے ہیں اور جن کی روحانی بینائی ماری ہوئی نہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارے گزشتہ سالوں کے روزے دنیا میں عظیم الشان تغیرات پیدا کرنے والے ہوئے ہیں۔اگر دنیا کی ۱۹۳۳ء اور ۱۹۳۴ ء کی تاریخ انسان اپنے سامنے رکھے اور پھر ۱۹۳۵ ء اور ۱۹۳۶ء کی تاریخ پر بھی نگاہ ڈالے تو وہ حیران ہو جائے گا کہ ان سالوں کی تاریخ میں کتنا عظیم الشان تغییر پیدا ہوا ہے۔ان دوسالوں میں اللہ تعالیٰ نے یکدم ایسے تغیرات پیدا کئے اور دشمنانِ احمدیت پر ایسی تباہی ڈالی اور احمدیت کی ترقی کے ایسے سامان کئے اور ہمارے مذہبی اور سیاسی دشمنوں کو مغلوب کرنے کیلئے ایسے فوق العادت نشانات دکھلائے جو بالکل غیر معمولی اور حیرت ناک نظر آتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ابھی ہمارے لئے فتنوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں احرار کے فتنہ کا سر کچل دیا اور سیاسی لحاظ سے وہ مردہ ہو گئے مگر مذہبی لحاظ سے وہ ابھی ڈینگیں مار رہے ہیں اور ان کے وہ زہر یلے دانت جو ان کے فاسد عقائد کے سر میں پائے جاتے ہیں گو کند تو ہو گئے ہیں مگر ٹوٹے نہیں۔اسی وجہ سے ان کے کسی ایجنٹ نے بعض اخبارات میں اب یہ اعلان کرایا ہے کہ آئندہ احرار سیاسی کاموں سے اجتناب کریں گے اور خالص مذہبی کاموں تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھیں گے۔غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاسیات کے متعلق اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایسی زک حاصل کر چکے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اب اس میدان میں ان کیلئے کامیابی کا میسر آنا بالکل محال ہے۔پس انہوں نے اپنی عقلوں سے کام لیتے ہوئے سمجھا ہے کہ دو جنگیں انہیں ایک وقت میں نہیں لڑنی چاہئیں۔کیونکہ جب وہ سیاسی میدان میں کو دتے ہیں اور ساتھ ہی مذہبی میدان میں بھی تو سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کے لوگ ان کے مخالف ہو جاتے ہیں اس لئے اب انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن سے مذہبی مخالفت ہوا نہی کے خلاف شور ،