خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 591

خطبات محمود ۵۹۱ سال ۱۹۳۷ء دے اور تمہیں والے کیلئے یہ جائز ہوگا کہ وہ ۲۷ روپے دے۔مگر پھر بھی جو زیادہ چندہ دینا چاہے گا اُس کیلئے رستہ کھلا ہوگا۔یہ کمی اسی طرح سال بہ سال ہوتی چلی جائے گی یہاں تک کہ پچاس فیصدی کمی پر آکر یہ چندہ ٹھہر جائے گا۔اور دو سال اور گزرنے کے بعد اسے بند کر دیا جائے گا۔اس انتظام کے ماتحت مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنے عرصہ میں تحریک جدید کے جو کارخانے قائم کئے گئے ہیں اور اس کی جو جائدادیں خریدی گئی ہیں وہ ایسے رنگ میں آزاد ہو جائیں گی کہ مرکزی دفتر کے اخراجات کی خود بخود چلتے چلے جائیں گے۔پس اس رنگ میں ہر سال اول تو چندے کا بوجھ کم ہوتا چلا جائے گا اور دوسرے یہ تحریک ایک مستقل صورت اختیار کرتی چلی جائے گی۔یا درکھو بہر حال قربانی خواہ کسی ہی ہو جب تک انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد نہ کر دے اور اس کی قربانی میں خلوص اور محبت نہ پائی جائے ، اُس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پس نہ صرف قربانیوں کی ضرورت ہے بلکہ اس اخلاص کی بھی ضرورت ہے جو قر بانیوں کو نتیجہ خیز بناتا ہے۔یہ تحریک ہے جو اس سال میں کر رہا ہوں۔بعض دوست جن کو یہ خیال تھا کہ میں اب کی دفعہ پہلے سالوں سے زیادہ مالی قربانی کا مطالبہ کروں گا اُن کی توقع کے خلاف میں نے قربانی کا مطالبہ کم کر دیا ہے۔لیکن اس کی میعاد بجائے تین سال کے اب میں نے دس سال کر دی ہے۔یعنی تین سال وہ جو گزر چکے ہیں اور ی سات سال وہ جو آئندہ آنے والے ہیں اور یہ عجیب بات ہے کہ متعدد دوستوں کی طرف سے مجھے یہ چٹھیاں آچکی ہیں کہ میں اس تحریک کو تین سال میں ختم کرنے کی بجائے دس سال تک بڑھا دوں۔میرا اپنا بھی خیال اس نئے سال سے اسی قسم کا اعلان کرنے کا تھا۔پس ان تحریکوں کو جو بالکل میرے خیال سے تو ار دکھا گئیں مجھے یقین ہوا کہ یہ الہی القاء ہے۔پس اس تحریک کی میعاد میں توسیع اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہے اور دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس میں اپنے اخلاص اور اپنی طاقت کے مطابق حصہ لیں۔اسی طرح تحریک جدید کے امانت فنڈ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دوست جو امانت فنڈ میں روپے جمع کرا رہے ہیں وہ اپنے سابقہ طریق کو جاری رکھنے کی کوشش کریں اور جنہوں نے ابھی تک اس میں کوئی کی حصہ نہیں لیا وہ اس سال سے ہی امانت فنڈ میں اپنے روپے جمع کروانے شروع کر دیں۔مگر جو دوستی آئندہ کیلئے اس میں حصہ نہیں لے سکتے اور چاہتے ہیں کہ ان کا روپیہ انہیں واپس دیا جائے ان کیلئے کی دونوں صورتیں ہیں۔جن کے متعلق مرکز کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جو صورت چاہے اختیار