خطبات محمود (جلد 18) — Page 592
خطبات محمود ۵۹۲ سال ۱۹۳۷ء کرے۔یعنی وہ چاہے تو انہیں ان کے روپیہ کے بدلہ میں کوئی جائداد دے دے اور اگر روپیہ دینے کی گنجائش ہو تو روپیہ واپس کر دے۔لیکن دوستوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جن کے پاس روپیہ موجود ہے اور وہ امانت فنڈ میں آئندہ بھی رقوم جمع کراسکتے ہیں، وہ اپنے اس طریق کو جاری رکھیں اور روپیہ برابر جمع کراتے رہیں۔مگر وہ دوست جو یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ مجبور ہیں اور آئندہ وہ امانت فنڈ کی تحریک میں شامل نہیں رہ سکتے وہ دفتر کو اطلاع دے دیں اور یہ بھی لکھ دیں کہ آیا وہ روپیہ کو ترجیح دیتے ہیں یا جائداد کو۔اگر وہ اپنی امانت بصورت نقد لینا چاہیں گے تو جس حد تک ممکن ہوگا انہیں روپیہ واپس کر دیا جائے گا اور اگر روپیہ نہ ہوا تو اس قیمت کی انہیں کوئی جائداد دی جائے گی۔اور جیسا کہ میں نے شروع میں ہی اعلان کر دیا تھا اصل قاعدہ یہی ہے کہ جائداد کی صورت میں امانت واپس کی جائے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں دوستوں کا نفع بھی اسی میں ہے کیونکہ اس صورت میں انہیں کچھ فائدہ ہو جائے گا۔جولوگ امانت واپس لینا چاہیں اس کیلئے میں ایک کمیٹی بنادوں گا جس میں زیادہ تر اُن لوگوں کو شامل کروں گا جو امانت فنڈ کے حصہ دار ہیں۔تا وہ دیکھ لیں کہ کسی سے بے انصافی تو نہیں ہو رہی اور آیا سب کے حقوق ادا ہو گئے ہیں یا نہیں۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جو دوست اسے جاری رکھنا اہتے ج ہیں وہ بھی اطلاع دے دیں اور بحیثیت مجموعی سب دوست کوشش کریں کہ اپنے اس طریق عمل کو جاری کی رکھیں اور بجائے حساب بند کرانے کے اور دوستوں کو بھی ترغیب دے کر نئے حساب کھلوائیں۔کیونکہ اس نے کے فوائد نہایت اہم ہیں اور اس کو جاری رکھنا نہایت ضروری ہے۔پس تحریک جدید کے دوسرے دور میں میں جماعت کے احباب سے جو مالی مطالبہ کرنا چاہتا ہوں وہ میں نے بتا دیا ہے کہ تحریک کے پہلے سال میں دوستوں نے جس قدر چندہ دیا تھا کوشش کریں کہ کی اس سال بھی اسی قدر چندہ دیں۔اور جو زیادہ دے سکتے ہیں وہ ثواب کے اس موقع کو نہ کھوئیں اور پہلے سے بھی زیادہ چندہ دیں۔اور جو مجبور ہیں اور اس تحریک میں بالکل حصہ نہیں لے سکتے ان کے متعلق میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کرے اور انہیں آئندہ نیکیوں کے کاموں میں شامل ہونے کی توفیق عطا کرے۔اور وہ لوگ جنہوں نے باوجود وعدے لکھوانے کے اپنے چندے ادا نہیں کئے ان سے میں کہتا ہوں کہ خدا تم پر رحم کرے۔میں نے ہر چند چاہا کہ تم گنہ گار نہ بنو میں نے تمہارے لئے اس چندہ کو طوعی رکھا۔میں نے تمہیں کہا کہ اگر تم وقت کے اندرا دا نہیں کر سکتے تو مزید مہلت لے لو، میں نے