خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 590

خطبات محمود ۵۹۰ سال ۱۹۳۷ء کمالو کہ خدا نے تمہارے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دیئے۔مگر وہ جو طاقت رکھنے کے باوجود اس میں حصہ نہیں لیتا اُس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور جو اس چندہ میں حصہ لینے سے بالکل معذور ہے اس پر کی ہر گز کوئی گناہ نہیں نہ میری طرف سے اور نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے۔گویا اس سال میری تحریک یہ ہے کہ اپنے پہلے سال کے چندہ کے برابر چندہ دو۔اور جو اس قدر نہ دے سکتا ہو وہ کم دے بشر طیکہ اس سے کم چندہ دیا جا سکتا ہو۔مثلاً جس نے پہلے سال دس دیئے تھے اور اس سال وہ دس روپے نہیں دے سکتا تو وہ تھی پانچ دے اور جس نے پانچ دینے تھے اور اس سال وہ پانچ نہیں دے سکتا وہ کچھ بھی نہ دے کیونکہ پانچ سے کم کوئی رقم اس تحریک میں نہیں لی جاتی۔اسی طرح ہیں روپے دینے والا دس روپے دے سکتا ہے۔تمہیں روپے دینے والا میں روپے دے سکتا ہے۔ستائیس اٹھائیس نہیں کیونکہ ایسا کوئی درجہ مقرر ہیں۔ہاں جس نے ہیں دیئے تھے وہ چاہے تو ستائیس اٹھائیس دے سکتا ہے۔کیونکہ وہ زیادتی ہے۔اسی طرح جو شخص سو روپے دے سکتا ہے وہ سو روپے دے اور جو سو نہیں دے سکتا وہ پانچ یا پانچ کے اعداد کے لحاظ سے رقم میں کمی کر سکتا ہے۔پس چندہ کے جو درجات مقرر ہیں ان کے مطابق چندہ دو اور جو شخص مقررہ رقوم سے زیادہ رقم چندہ دے سکتا ہے اُس سے میں کہتا ہوں کہ وہ زیادہ دے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نزول کی بھی زیادہ امید رکھے۔پس ہر شخص جو ثواب حاصل کرنے کا آرزومند ہے، اس سے میں کہتا ہوں کہ ثواب کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں آگے بڑھو اور ان دروازوں میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی صلى الله خوشنودی حاصل کرلو۔بے شک یہ چند نفلی ہے مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے۔۲ پس جو شخص چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے وہ اس نفل کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔اگلے سال اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی یہ چندہ نوے فیصد ی پر آجائے گا اور اُس وقت آنوں اور پائیوں کی کمی بھی جائز ہوگی۔مثلاً جس نے اس سال پانچ روپے چندہ میں دیئے ہیں وہ اگلے سال ساڑھے چار روپیہ دے سکے گا اور جس نے دس روپے دیئے ہوں گے اس کیلئے نو روپے ہو جائیں گے۔اسی طرح جس نے سودیئے ہوں گے اگلے سال اسے ۹ دینے پڑیں گے اور جس نے تین سو روپے دیئے ہوں گے اسے ۲۷۰ روپے دینے پڑیں گے۔غرض اس سال نہیں بلکہ اس سے اگلے سال پانچ روپے دینے والے کیلئے جائز ہوگا کہ وہ ساڑھے چار دے اور دس دینے والے کیلئے یہ جائز ہوگا کہ وہ نوتی