خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 578

خطبات محمود ۵۷۸ سال ۱۹۳۷ء کی خدمت چندہ سے نہیں بلکہ ہاتھوں سے ہوتی ہے۔بعض بیمار مائیں بے شک اپنے بچہ کو دودھ نہیں پلاتیں اور وہ اس بات پر مجبور ہوتی ہیں کہ نوکروں سے خدمت لیں۔مگر تندرست مائیں ہمیشہ اپنے بچوں کی اپنے ہاتھ سے خدمت کرتی ہیں۔خواہ ان کے ایک نہیں دس ، پچاس اور سو نو کر بھی ہوں۔ملکیت کی زندگی کے ماتحت بے شک خدمتگاروں سے کام لیا جا سکتا ہے مگر صفت رب العلمین کے ماتحت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے کام کرے۔محمد ﷺ جن کے قدموں کے نیچے ہزاروں انسان اپنی آنکھیں بچھانے کیلئے تیار تھے اور جن کی خدمت کیلئے ہزاروں لوگ موجود تھے ، انہیں جب ہم اہلی زندگی میں دیکھتے ہیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک موقع پر جھکتے ہیں اور فرماتے ہیں عائشہ! میری پیٹھ پر پیر رکھ کر فلاں نظارہ دیکھ لو۔کلے پھر آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو حضرت حسنؓ جو بھی چھوٹے بچے تھے آتے اور جب آپ سجدہ میں جاتے تو گردن پر چڑھ کر بیٹھ جاتے۔جب آپ سجدہ کے بعد کھڑے ونے لگتے تو انہیں اپنی گودی میں لے لیتے۔پھر رکوع میں جاتے تو اُتار دیتے اور جب پھر سجدہ میں جاتے تو وہ پھر آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے۔صحابہ ایک دفعہ یہ دیکھ کر حضرت حسنؓ پر ناراض ہوئے تو آپ ہو۔نے فرما یا ر ہنے دو بچوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان کے شفیق بنو۔۱۸ غرض گود نیا جہان کیلئے محمد ﷺ قربانی کر رہے تھے اور دنیا جہان بھی آپ کیلئے ہر چیز قربانی کرنے کیلئے تیار تھی مگر حضرت حسن کے ساتھ سلوک ایک جدا گانہ رنگ رکھتا تھا۔جو سلوک آ کرتے تھے کسی اور کا بچہ کرتا تو شاید وہ باپ اپنے بچہ کو مار مار کر ادھ موا کر دیتا۔کیونکہ یہاں صرف ایمان کا سوال نہیں تھا بلکہ اہلی زندگی کا بھی سوال تھا۔غرض ربوبیت کے مرکز میں آکر ہاتھوں سے کام کرنا ضروری ہوتا ہے اور یہی تحریک جدید میں میں نے جماعت سے مطالبہ کیا کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرو اور اسی طرح کرو کہ جس طرح ماں باپ اپنے بچوں کا کام کرتے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہی عورت جوی اپنے ہاتھ سے اپنا ناک پونچھنے میں بھی ہتک محسوس کرتی ہے اور بغیر رومال کے اُسے صاف نہیں کرتی جب دیکھتی ہے کہ اُس کے بچے کا ناک بہ رہا ہے تو کس طرح فوراً اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا نام اپنے ہاتھ سے صاف کر دیتی ہے۔وہ بادشاہ جو اُٹھ کر اپنے ہاتھ سے پانی لینا بھی برداشت نہیں کر سکتے بچوں کو اپنی گودی میں اُٹھائے پھرتے ہیں۔تو اپنے ہاتھوں سے بنی نوع انسان کی خدمت کرنا یہ ربوبیت کا حصہ ہے اور ہر س جو صفت رب العلمین کا مظہر بننا چاہتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ کام کرے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ