خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 577

خطبات محمود ۵۷۷ سال ۱۹۳۷ء خرچ ہوا ہے۔پس سر کٹوانے سے وہ سر کو انا مراد نہیں بلکہ اپنے نفس کی گل طاقتوں کو خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع کر دینا ہے اور انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کر دے۔رب العلمین کی صفت کے ماتحت وہ اپنے نفس کو گلیۂ تابع کر دے، رحمن کی صفت کے ماتحت وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کر دے، رحیم کی صفت کے ماتحت وہ اپنے نفس کو کلیۂ تابع کر دے۔ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صفت کے ماتحت۔جو جماعت اور جو قوم یہ کام کر لیتی ہے وہی کامیابیاں اور عروج دیکھنے کی مستحق ہوتی ہے اور یہی غرض میری تحریک جدید سے ہے۔چنانچہ تحریک جدید کے تمام مطالبات اسی لئے ہیں کہ تم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بناؤ۔مثلاً جب میں نے کہا جاؤ اور باہر تبلیغ کیلئے نکل جاؤ تو میں نے یہ حکم رب العلمین کی صفت کے ماتحت دیا اور اس لئے دیا تا تم بھی صفت رب العلمین کے مظہر بن جاؤ۔کیونکہ کچھ قو میں پیاسی ہیں انہیں پانی پلا ؤ، وہ تاریکیوں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں تم انہیں وہ نور پہنچاؤ جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے اور جس طرح رب العلمین تمام جہان کی ربوبیت کرتا ہے اسی طرح تم بھی نکلو اور تمام دنیا کو اپنی روحانی تربیت کی آغوش میں لے لو۔پھر جب میں نے چندے کی تحریک کی تو وہ بھی رب العلمین اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی صفت کے ماتحت تھی۔کیونکہ ملک کیلئے خزانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور کوئی قوم اُس وقت تک اپنا نظام درست نہیں کر سکتی جب تک اُس کے پاس خزانہ موجود نہ ہو۔پھر جب میں نے امانت فنڈ کی تحریک کی تو وہ بھی صفت رب العلمین کے ماتحت کی کیونکہ رب العلمین کی صفت اس طرف بھی اشارہ کرتی کی ہے کہ سب زمانوں پر نظر رکھی جائے اور آج کی ضرورتوں کے پورا کرنے کا ہی خیال نہ کیا جائے بلکہ کل کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے ، اس نے یہ نہیں کیا کہ جن چیزوں کی انسان کو ضرورت ہے وہ اُس نے آج پیدا کی ہوں بلکہ کروڑوں کروڑ سال پہلے اُس نے یہ چیزیں تیار کرنی شروع کر دی تھیں۔اسی طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم بھی کل کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کیلئے آج سے تیاری شروع کر دیں اور اسی وجہ سے میں نے امانت کی تحریک جاری کی۔پھر جب میں نے کہا کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرو تو یہ بھی رب العلمین کی صفت کے ماتحت تھا۔کیونکہ رب العلمین کے کی صفت کے ماتحت کوئی شخص اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرنے والا نہ ہو۔ربوبیت کا تعلق ماں باپ والی خدمت سے ہے اور ماں باپ