خطبات محمود (جلد 18) — Page 579
خطبات محمود ۵۷۹ سال ۱۹۳۷ء پیسے لے لو مگر ہاتھ سے کام نہ لو وہ ملکیت کا مظہر تو بنتا ہے مگر رب العلمین کا مظہر نہیں بنتا۔حالانکہ ربوبیت کا مادہ فطرت انسانی میں داخل ہے۔ایک زمیندار بے شک ٹیکس ادا کرتا ہے مگر کوئی زمیندار است امر کو برداشت نہیں کرسکتا کہ گورنمنٹ کچھ ٹیکس بڑھا دے اور اس کے بچوں کی پرورش کا ذمہ خود لے لی لے۔وہ کہے گا ٹیکس بے شک بڑھا دو مگر بچہ کی خدمت میں ہی کروں گا اور کسی کو نہیں کرنے دوں گا۔روس میں کئی دفعہ محض اس بات پر بغاوت ہوگئی ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ قوم کے بچوں کو ہم پالیں گے اور ان کی پرورش حسب منشاء کریں گے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کی خود پرورش کریں گے تمہارے سپرد نہیں کر سکتے۔حکومت کے افسر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے بچوں کو عمدہ سے عمدہ مکانوں میں رکھیں گے۔اچھی سے اچھی غذا کھلائیں گے تم ان کی پرورش ہمارے ذمہ رہنے دو مگر وہ کہتے ہیں کہ ہم خواہ کی بھوکے مریں یا فاقے برداشت کریں بچوں کو اپنی گودی سے نہیں اتاریں گے۔غرض ملکیت کے ماتحت کی چندے دیئے جاتے ہیں لیکن ربوبیت کے ماتحت ہاتھوں سے خدمت کی جاتی ہے۔تم اپنے بچے کو اس لئے گود میں نہیں اُٹھاتے کہ اس کو اُٹھانے والا اور کوئی نہیں ہوتا۔اگر تمہارے ہزار خادم بھی ہوں تب بھی تم اپنے بچے کو خود اٹھاؤ گے کیونکہ ربوبیت تمہاری فطرت میں داخل ہے۔مجھے ایک نظارہ کبھی نہیں بھولتا میں اُس وقت چھوٹا سا تھا ، سولہ سترہ سال کی عمر تھی کہ اُس وقت ہماری ایک چھوٹی ہمشیرہ جو چند ماہ کی تھی فوت ہو گئی اور اُس کو دفن کرنے کیلئے اسی مقبرہ میں لے گئے جس کے متعلق احرار کہتے ہیں کہ احمدی اس میں دفن نہیں ہو سکتے۔جنازہ کے بعد نعش حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں پر اُٹھالی۔اُس وقت مرزا اسماعیل بیگ صاحب مرحوم جو یہاں دودھ کی دکان کیا کرتے تھے آگے بڑھے اور کہنے لگے حضور الغش مجھے دے دیجئے میں اُٹھا لیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مڑ کر اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا یہ میری بیٹی ہے۔یعنی بیٹی ہونے کے لحاظ سے اس کی ایک جسمانی خدمت جو اس کی آخری خدمت ہے یہی ہو سکتی ہے کہ میں خود اس کو اٹھا کر لے جاؤں۔تو صفت رب العلمین کے مظہر بننا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ مخلوق کی جسمانی خدمات بجالاؤ۔اگر تم خدمت دین میں اپنی ساری جائداد دے دیتے ہو ، اپنی گل آمد اسلام کی اشاعت پر خرچ کر دیتے ہو تو تم ملکیت کے مظہر تو بن جاؤ گے مگر رب العلمین کے مظہر نہیں بنو گے۔کیونکہ رب الـعـلـمـیـن کا مظہر بننے کیلئے ضروری ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو اور غرباء کی خدمت پر کمر بستہ ہی