خطبات محمود (جلد 18) — Page 576
خطبات محمود ۵۷۶ سال ۱۹۳۷ء میں داخل تو ہو جاتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ احمدیت میں داخل ہونے کے کیا اغراض و مقاصد ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان پر کس قدر ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں۔یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ احمدیت میں داخل ہو کر ہمیں اس دنیا میں کچھ انعام مل جائے گا اسی لئے جب انہیں کوئی کام بتایا جاتا ہے، جب ان پر کوئی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو یہ خیال نہیں تھا کہ احمدیت میں داخل ہو کر اس قدر بوجھ پڑ جائیں گے۔ہم نے تو سمجھا تھا کہ ہم جب احمدی ہو گئے تو ہمیں انعام مل جائے گا۔حالانکہ جس دن وہ احمدیت میں داخل ہوئے تھے وہ اس لئے نہیں ہوئے تھے کہ ان میں انعام تقسیم کیا جائے گا بلکہ اس کے لئے ہوئے تھے کہ وہ اپنی جانیں اور اموال سلسلہ کیلئے قربان کر دیں گے۔پس جب لوگوں کو یہ کہا جاتا ہے ہے کہ آؤ اور مسلمان ہو جاؤ یا یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ اور احمدی ہو جاؤ تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ آؤ اور کی روٹیاں کھاؤ۔بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ آؤ اور سر کٹواؤ۔اور جب کوئی شخص سر کٹوانے آ گیا تو اسے انعام کی ہوس کہاں رہی۔کہتے ہیں ” جب اوکھلی میں سردیا تو موہلوں کا کیا ڈر۔“ جب کوئی شخص اوکھلی میں اپنا سر دے دیتا ہے تو اسے اس بات کا کیا خوف ہو سکتا ہے کہ وہ پیسا جاتا ہے یا کچلا جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار رسول کریم ﷺ سے فرماتا ہے کہ تُو لوگوں پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔اگر کسی شخص پر جبر کیا جائے اور اُسے زبر دستی مذہب میں داخل کیا جائے تو وہ بعد میں کہہ سکتا ہے کہ میں اپنی خوشی سے شامل نہیں ہوا، تم نے جبر کیا اور میں نے مان لیا۔لیکن جب ہم دلائل دیتے ہیں اور دلائل پیش کر کے کہتے ہیں کہ جس کا جی چاہتا ہے ان دلائل کو سُن کر ہمارے اندر شامل ہو جائے اور جس کو شرح صدر نہیں وہ شامل نہ ہو تو اس کے بعد جو شخص ہمارے اندر شامل ہوتا ہے وہ یہ ارادہ لے کر آتا ہے کہ میں اپنا سر دے دوں گا مگر اس راستہ سے جس کو میں نے سچا تسلیم کر لیا ہے پیچھے قدم نہیں ہٹاؤں گا۔پھر جو شخص سر دے دیتا ہے اس کا یہ حق کہاں باقی رہ جاتا ہے کہ وہ کسی حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکے۔ہاں یہ سر دینا جاہلانہ نہ ہو کہ خودکشی کی اور مر گئے۔بلکہ سر دینے سے مراد اپنے جذبات کی قربانی ، اپنے احساسات کی قربانی، اپنے علم کی قربانی ، اپنے اموال کی قربانی اور اپنی خواہشات کی قربانی ہے۔البتہ اگر کسی وقت تلوار سے جہاد بھی شروع ہو جائے تو اُس وقت ظاہری طور پر اپنی جانیں قربان کرنا بھی ضروری کی ہوگا لیکن ایسا جہاد بہت کم ہوتا ہے۔اور یہ جہاد انسانی زندگی کا کروڑواں حصہ بھی نہیں۔اگر حساب لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی کا کروڑ منٹ اور کاموں میں خرچ ہوا ہے مگر ایک منٹ صرف جہاد پر