خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 569

خطبات محمود ۵۶۹ سال ۱۹۳۷ء ایسے شخص کو قتل نہیں کرنا جس نے تمہارے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔دیکھنا زخمی کو نہ مارنا، دیکھنا کسی کو آگ سے عذاب نہ دینا ، دیکھنا کفار کا مثلہ نہ کرنا اور ان کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹنا۔یہ سب احکام جو رسول کریم ﷺ نے دیئے یہ مسلمانوں کیلئے تو نہیں تھے ، یہ کفار کیلئے تھے۔آخر مسلمانوں نے مسلمانوں صلى الله کے ناک، کان اور ہاتھ نہیں کاٹنے تھے انہوں نے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر آگ میں نہیں جلانا تھا۔وہ اگر مثلہ کر سکتے تھے یا آگ سے عذاب دے سکتے تھے تو کافروں کو۔پس یہ احکام مسلمانوں کی خیر خواہی کیلئے نہیں تھے بلکہ کفار کی خیر خواہی کیلئے تھے اور ان کے آرام اور بچاؤ کیلئے یہ سب سامان تھے۔گوی تمثیلی زبان میں اگر ہم ان واقعات کو بیان کریں تو اس کا نقشہ یوں کھینچا جاسکتا ہے کہ مسلمان ایک لمبے عرصہ صلى الله تک کفار کے مظالم برداشت کرنے کے بعد جب تلواریں سونت کر کفار پر حملہ آور ہوئے تو وہی محمد ہے جو مسلمانوں کو کفار سے لڑا رہے تھے، کیا دکھائی دیتا ہے کہ دشمنوں کے آگے بھی کھڑے ہیں اور مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان پر یہختی نہ کرو، وہ سختی نہ کرو۔گویا محمد نے صرف مسلمانوں کے لشکر کی ہی کمان نہیں کر رہے تھے بلکہ آپ کفار کے لشکر کی بھی کمان کر رہے تھے اور اُسے بھی مسلمانوں کے حملہ سے بچارہے تھے۔پس لڑائیوں میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صفت رب العلمین کا مظہر ہونے کا ثبوت نظر آ رہا ہے۔پھر غلاموں پر بھی آپ نے احسان کیا اور فرمایا جو شخص کسی غلام کو مارتا ہے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کا فدیہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔آپ نے فرمایا اپنے غلام سے وہ کام نہ لو جو وہ کر نہیں سکتا اور اگر زیادہ کام ہو تو خو د ساتھ لگ کر کام کراؤ۔اور اگر تم اس کیلئے تیار نہیں تو تمہارا حق نہیں کہ اس سے کام لو۔اسی طرح اگر غلام کیلئے تمہارے منہ سے کوئی گالی نکل جاتی ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اسے کی فوراً آزاد کر دو۔غرض مزدور اور آقا کے لحاظ سے بھی آپ نے صفت رب العلمین کا مظہر بن کر دنیا کی کو دکھا دیا۔آپ نے ایک طرف مزدور کو کہا کہ اے مزدور تو حلال کما اور محنت سے کام کر۔اور دوسری طرف آقا سے کہا کہ اے محنت لینے والے ! تو حد سے زیادہ اس سے کام نہ لے اور اس کا پسینہ سُوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری اسے دے۔اسی طرح تجارتوں کے متعلق اور لین دین کے معاملات کے متعلق بھی رسول کریم ﷺ نے احکام دیئے ہیں اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر رسول کریم ﷺ کا کوئی احسان نہ ہو۔