خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 570

خطبات محمود ۵۷۰ سال ۱۹۳۷ء کوئی کہ سکتا ہے کہ موجودہ لوگوں پر تو رسول کریم ﷺ نے یہ احسانات کئے ، آپ کے پہلوں پر کیا احسان ہیں؟ سو ایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے احسانات نہ صرف موجودہ نسل اور آئندہ آنے والی نسلوں پر ہیں بلکہ ان لوگوں پر بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے۔آپ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں تمام انبیاء پر مختلف قسم کے الزامات لگائے جاتے تھے۔تم مجھے ایک ہی نبی ایسا بتا دو کی جس پر کوئی الزام نہ لگایا گیا ہو۔ہر نبی پر الزام لگا اور انہی قوموں نے ان پر الزام لگایا جو ان انبیاء کو ماننے والی تھیں۔حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی الزام لگا، حضرت داؤد علیہ السلام پر بھی الزام لگا، حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی الزام لگا اور عیسائیوں نے تو حضرت عیسی علیہ السلام کو مستقلی کرتے ہوئے کہہ دیا کہ سب نبی چور اور بٹ مار تھے۔مگر حضرت عیسی علیہ السلام کی نیکی بھی ان کی نگاہ میں کیا تھی۔انہوں نے کی منہ سے تو کہہ دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بے گناہ تھے مگر تفصیلات میں وہ ان پر الزام لگانے سے بھی بازی نہیں آئے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی کا گدھا بے پوچھے لے گئے اور اس پر سواری کرتے پھرے۔لوگوں کو گالیاں دیتے تھے اور انہیں حرام کار اور بد کار کہتے تھے۔وہ لوگوں کے گناہ اُٹھا کر صلیب پر لٹک گئے اور اس طرح نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ لعنتی بنے اور تین دن دوزخ میں رہے۔وہ لوگوں کے سوروں کے گلے بغیر ان کے مالکوں کو کوئی قیمت دینے کے تباہ کر دیا کرتے تھے۔یہ سب باتیں مسیحی کتب میں لکھی ہیں۔پھر ہندوؤں کو لے لو۔وہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر کو اپنا اوتار مانتے ہیں۔مگر رام کی چندر جی کا سیتا سے جو سلوک بیان کرتے ہیں وہ اگر ایک طرف رکھ لیا جائے اور دوسری طرف ان کی و بزرگی اور نیکی دیکھی جائے تو یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے اتنا بڑا ظلم کیا ہو۔مگر وہ حضرت رام چندر کی طرف بے دریغ یہ ظلم منسوب کرتے جاتے ہیں۔پھر حضرت کرشن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مکھن چرا چرا کر لے جایا کرتے تھے حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔غرض تمام انبیاء پر بیسیوں الزامات لگائے جاتے تھے۔یہ صرف محمد ﷺ کی ہی ذات ہے جس نے تمام انبیاء سے ان اعتراضات کو دُور کیا اور بتلایا کہ یہ لوگ نیک، پاک اور راستباز تھے۔ان پر الزام نہیں لگانا چاہئے۔پس رسول کریم ﷺ نے نہ صرف موجودہ اور آئندہ نسلوں پر احسان کیا بلکہ پہلے لوگوں پر بھی کی احسان کیا جو وفات پاچکے تھے اور ان کی قوموں پر بھی احسان کیا۔جب ایک یہودی کو بتادیا جائے کہ تمہارے بزرگ تمام نقائص سے پاک تھے تو اس کی گزشتہ تاریخ کتنی صاف ہو جاتی ہے اور وہ کیسی خوشی