خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 568

خطبات محمود ۵۶۸ سال ۱۹۳۷ء صلى الله کا انہوں نے کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔رسول کریم ﷺ وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے یہ تعلیم دی کہ جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ہیں۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۳ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں، اسی طرح عورتوں کے بھی بہت سے حقوق ہیں جو مردوں کو ادا کرنے چاہئیں۔پھر ہر شعبہ زندگی میں عورت کی ترقی کے راستے آپ نے کھولے۔اسے جائداد کا مالک قرار دیا، اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھا، اس کی تعلیم کی نگہداشت کی ، اس کی تربیت کا حکم دیا اور پھر فیصلہ کر دیا کہ جس طرح جنت میں مرد کیلئے ترقیات کے کی غیر متناہی مراتب ہیں اسی طرح جنت میں عورتوں کیلئے بھی غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔پھر مردوں کی مختلف شاخیں ہیں۔کبھی مرد بحیثیت باپ ہوتا ہے، کبھی مرد بحیثیت بھائی ہوتا ہے، کبھی مرد بحیثیت بیٹا ہوتا ہے اور کبھی مرد بحیثیت خاوند ہوتا ہے۔اسی طرح عورت کبھی بحیثیت ماں ہوتی ہے ، کبھی بحیثیت بیٹی ہوتی ہے، کبھی بحیثیت بہن کے اور کبھی بحیثیت بیوی کے۔پھر مرد بھی معلم ہوتا ہے کبھی متعلم۔عورت بھی کبھی معلمہ ہوتی ہے اور کبھی متعلمہ۔پھر عورت کبھی دودھ پلانے والی ہوتی ہے اور کبھی دودھ پینے والی۔کبھی مرد دودھ پلوانے والا ہوتا ہے اور کبھی خود دودھ پینے والا یعنی چھوٹا بچہ ہوتا ہے۔پھر مرد عورت خریدار بھی ہوتے ہیں اور بیچنے والے بھی ہوتے ہیں۔وہ محنت کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور مزدوری دینے والے بھی ہوتے ہیں۔معاہدہ کرنے والے بھی ہوتے ہیں اور معاہدہ لینے والے بھی ہی ہوتے ہیں۔حاکم بھی ہوتے ہیں اور محکوم بھی ہوتے ہیں۔غرض ہر قسم کی زندگی مردوں سے بھی تعلق رکھتی ہے اور عورتوں سے بھی۔ان تمام شعبوں میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ مردوں کو بھی احکام دیئے اور عورتوں کو بھی۔پھر انسانوں میں قوموں ، مذہبوں اور حکومتوں کے تفاوت کے لحاظ سے اختلاف ہوتا ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔مگر جہاں گھمسان کی لڑائی ہورہی ہوتی ہے، جہاں کوئی کسی کی الله پر واہ نہیں کرتا وہاں محمد ﷺ کے ذریعہ یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ بے شک میرے ماننے والے مسلمان ہیں اور نہ ماننے والے کا فرمگر دیکھو میں رب العلمین کا مظہر ہوں۔دیکھنا ان کفار میں سے کسی عورت کو نہ مارنا ، دیکھنا ان میں سے کسی بچے کو نہ مارنا، دیکھنا ان کے کسی پنڈت ، پادری یا راہب کو قل نہیں کرنا ، دیکھنا باغات نہ جلانا ، معبد نہ گرانا، پھل دار درخت نہ کاٹنا۔دیکھنا جھوٹ اور فریب سے کام نہ لینا ، دیکھنا کسی