خطبات محمود (جلد 18) — Page 551
خطبات محمود ۵۵۱ سال ۱۹۳۷ء ہیں۔میں نے کہا یہ سامنے آپ کی پنسل پڑی ہے۔اگر کوئی بات نوٹ کرنے کیلئے آپ اسے اٹھانا چاہیں تو کیا آپ اپنے بیرے، خانسامہ اور اپنے دوست کو جو آپ کے ساتھ ہیں بلکہ مجھے بھی مدد کیلئے بلائیں گے اور اگر اتنے آدمی مل کر پنسل پر اُنگلیاں رکھیں اور سب اُٹھا کر اسے آپ کے قریب کریں تو دیکھنے والا کی ہم سب کو پاگل سمجھے گا یا نہیں ؟ کہنے لگے ضرور سمجھے گا کیونکہ پنسل کو تو ایک آدمی بھی بآسانی اُٹھا سکتا ہے۔میں نے کہا کہ جب یہ بات ہے اور آپ مانتے ہیں کہ ایک خدا بھی سب کچھ کر سکتا ہے تو پھر باقیوں کی ضرورت کیا ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جب ایک انسان بلا ضرورت کسی کام پر زائد آدمی لگائے تو اسے آپ پاگل کہیں مگر ان کو آپ ہم سے خدا منوانا چاہتے ہیں جو ہر ایک کامل قدرت رکھنے کے باوجود ایک چھوٹے کام کیلئے تین مل کر لگے ہوئے ہیں۔تو رحمانیت کو مانتے ہوئے شرک کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔رحمانیت کے معنے یہ ہیں کہ اس کی رحمت سے کوئی باہر نہیں اور جو بغیر محنت کے دیتا ہے اس کی رحمت سے کون باہر رہ سکتا ہے اور جب وہ ہر ایک کی ضرورت کو ہر زمانہ میں پورا کرتا ہے تو پھر دوسرے خدا نے کیا کرنا ہے۔جس قوم میں کامل تو حید نہیں وہ خدا کی رحمانیت کی قائل نہیں ہوسکتی۔پھر فرمایا رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ یعنی وہ تمام صفات حسنہ کا مرکز اور حکومت کا مالک ہے۔اس کی کا عرش کریم اور کریم اسے کہتے ہیں جس میں اعزاز اور احسان پایا جاتا ہو اور ساری عزتیں اور سارے احسان اس میں جمع ہوں۔وہ ربوبیت میں ادنیٰ حالت سے لے کر اعلیٰ تک ترقی دیتا ہے۔وہ بے شک بادشاہ بھی ہے مگر انسانوں کی نظامی ضرورتوں کے علاوہ وہ ان کی تربیت کے متعلق ضرورتیں بھی پوری کرتا ہے۔بادشاہت تو صرف انتظامی ضرورتوں تک ہوتی ہے۔انفرادی تعلقات کی درستی ربوبیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔بادشاہ کو میاں بیوی کے باہمی جھگڑے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا مگر ربوبیت کو اس کے ساتھ تعلق ہے۔ماں باپ انہیں ضرور کہیں گے کہ لڑو نہیں۔تو ربوبیت کا تعلق تمدنی اور معاشی چیزوں سے ہے۔اس لئے فرمایا کہ اس کی بادشاہت خالی ملوک والی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ربوبیت بھی شامل ہے۔یعنی تمدنی اور معاشی امور سے بھی اسے وابستگی ہے اور کریمیت بھی اس کے ساتھ ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ چاروں صفات وہ ہیں جن کی وجہ سے دنیا ظہور میں آئی۔ملک يَوْمِ الدِّينِ وہ اس لئے ہے کہ وہ ان ملک ہے۔رحیم اس لئے ہے کہ وہ الْحَقُّ ہے۔رحمن اس لئے ہے کہ ا ا الا ھوا ہے۔جہاں ایک سے زیادہ کام کرنے والے ہوں وہاں کسی سے پوچھو کہ فلاں کام تم نے کیوں نہیں کیا۔تو وہ