خطبات محمود (جلد 18) — Page 552
خطبات محمود ۵۵۲ سال ۱۹۳۷ء جواب دے دیتا ہے کہ میں نے سمجھا فلاں کر لے گا۔لیکن جب کام کرنے والا ایک ہی ہو تو وہ خود ساری فکر رکھتا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اور تو کوئی ہے نہیں، میں نے ہی سب کی ضرورتوں اور سب ضرورتوں کو پورا کرنا ہے۔پس اُس کا رحم ہر رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔پھر وہ رَبِّ العَلَمِينَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم ہے۔یہ چاروں چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دنیا میں قائم کرنی ہیں۔اور اسی انان غرض کیلئے ہم نے بندے کو پیدا کیا ہے اور مذہب دنیا میں اسی لئے آتا ہے کہ ان چیزوں کو قائم کرے۔ملکیت نظام کامل پر دلالت کرتی ہے۔بادشاہ یا خلیفہ کا کام ہے کہ دنیوی یا دینی نظام کو قائم رکھے اور ایک کو دوسرے پر ظلم نہ کرنے دے اور خدا تعالیٰ کی ملکیت تقاضا کرتی ہے کہ بنی نوع انسان میں نظام ہو اسی لئے انسان کو مدنی الطبع بنایا ہے اور اسے مل جل کر رہنے پر مجبور کیا ہے۔بیوی بچے ساتھ لگا دیئے ہیں۔بیشک وہ جانوروں کے ساتھ بھی ہیں مگر اس طرح نہیں جس طرح انسان کے ساتھ ہیں۔بعض جانوروں میں تو جوڑا ہے ہی نہیں۔بعض میں ہے جیسے کبوتر مگر ان میں بھی تربیت اولاد کا طریق نہیں۔بچہ جب دانے کھانے لگے نکال دیتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوگا کہ بچہ کو بوڑھا ہونے تک باپ ساتھ لئے پھرے۔لیکن انسان میں یہ بات ہے۔اسی جلسہ پر دو بوڑھے آدمی مجھے ملنے آئے۔ایک زیادہ ضعیف تھا اور دوسرا اسے سہارا دے کر لا رہا تھا۔میں نے خیال کیا یہ بھائی بھائی ہیں اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ دونوں بھائی ہیں؟ اس پر اُس نے جو سہارا دے کر دوسرے کو لا رہا تھا کہا کہ نہیں جی یہ میرا بیٹا ہے۔بوجہ امراض کے زیادہ بوڑھا معلوم ہوتا ہے اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا ہے اس لئے میں اسے اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔ایسی مثالیں جانوروں میں نہیں پائی جاتیں تو انسان کو مدنی الطبع بنایا گیا ہے۔پھر جانوروں میں بھائیوں کا احساس نہیں۔برادری کا سسٹم ان میں کوئی نہیں لیکن اگر بعض کے تعاون کو جیسا کہ چیونٹیوں میں ہوتا ہے برادری کا طریق سمجھ لیا جائے تو خاندان کی مثال ان میں نہیں مل سکے گی۔حکومت تو ہوگی جیسے شہد کی مکھیوں میں اور چیونٹیوں میں ہوتی ہے مگر خاندان کا سسٹم نہیں ہو گا۔اور وارث ہونا قرابیت کی وجہ سے دوسرے کا ذمہ وار قرار پانا یہ باتیں مفقود ہوں گی۔پس ملکیت کامل نظام پر دلالت کرتی ہے اور اسی لئے انسان کو اللہ تعالیٰ نے مدنی الطبع پیدا کیا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا میں نظام کامل پیدا کیا جائے۔جس وقت تک حکومتیں مسلمان اور احمدی نہیں ہو جاتیں جو کامل طور پر نظام کے قیام کا ذریعہ ہیں اُس وقت تک جتنا اسلامی نظام بھی ممکن ہو تی