خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 550

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء سے بعض چیزیں لاکھوں سال پہلے بنائی گئی تھیں اور بعض کو بظاہر اب پیدا ہوتی ہیں لیکن ان کی پیدائش کے ذرائع پہلے کے ہی ہیں۔جیسے سبزیاں، ترکاریاں کہ ان کو بیج زمین اور پانی پیدا کرتا ہے۔اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو دودھ کہاں سے آ سکتا تھا۔پس اس کے سامان اس وقت رکھے گئے تھے جب دنیا کا پہلاتی ذرہ پیدا ہوا تھا۔پس رحمانیت لا إِلهَ إِلَّا هُوَ پر دلالت کرتی ہے اور اسے مانتے ہوئے دوسرا خدا انسان تسلیم ہی نہیں کر سکتا۔کامل تو حید انہی قوموں میں ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمانیت کی قائل ہیں۔ہندو اور مسیحیان مشرک قو میں ہیں اور یہ دونوں رحمانیت کی قائل نہیں۔ایک نے رحمانیت کا انکار کر کے تناسخ کا مسئلہ نکالا ہے تو دوسری قوم نے کفارہ ایجاد کیا ہے۔غرض شرک اور رحمانیت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، توحید کامل رحمانیت سے تعلق رکھتی ہے۔رحمانیت کے معنے ہیں کہ انسان کی ہر ضرورت پوری ہو خواہ اس نے اس کیلئے کام کیا ہو یا نہ کیا ہو۔اب یہ بات تب ہی ہو سکتی ہے جب ایک خدا ہو۔کیونکہ جس نے خواہشات پیدا کیں وہی ان کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر سکتا ہے اور جب ایک وجود نے خواہشات بھی پیدا کیں اور انہیں پورا بھی کر دیا تو اب کسی دوسرے وجود کی ضرورت کیا رہی۔مجھے اس حقیقت کے متعلق ایک واقعہ یاد آ گیا ہے اسے بیان کر دیتا ہوں۔میں ایک دفعہ ڈلہوزی گیا میری عمر بھی اچھوٹی ہی تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی خلافت کے ابتدائی ایام تھے اُس وقت وہاں عیسائیوں کے ایک بڑے پادری پنگسن نامی جنہوں نے سیالکوٹ کا مشن قائم کیا تھا ، آئے ہوئے تھے۔اُن کی عمر کوئی ستر سال کی تھی اور داڑھی انہوں نے خوب بڑھائی ہوئی تھی۔وہ پادری کی صاحب عیسائیوں میں بہت معزز تھے۔پنجاب سے ان کی تبدیلی آخر عمر میں پونا کو ہو گئی تھی اور و ہیں۔خرابی صحت کی وجہ سے وہ ڈلہوزی آئے تھے۔وہ بعض دفعہ اپنے مذہبی اشتہار بازاروں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔بعض دوستوں کی خواہش تھی کہ میں ان سے بات چیت کروں۔چنانچہ میں اُن سے ملا دوران گفتگو میں بعض باتیں اس مضمون کے متعلق ہوئیں جس کو میں اب بیان کر رہا ہوں۔توحید کا مسئلہ زیر بحث تھا۔میں نے اُن سے پوچھا بتائیے اللہ تعالیٰ مخلوقات کو خود پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔میں نے کہا بیٹا ؟ انہوں نے کہا ہاں۔میں نے پھر روح القدس کے بارہ میں پوچھا انہوں نے کہا وہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔مگر خدا نے یہ کام بیٹے کے سپرد کیا۔میں نے کہا پھر تو خدا تعالیٰ اور روح القدس سارا وقت فارغ رہتے ہوں گے۔ان کے وجود یا عدم وجود کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔کہنے لگے نہیں سب ہی کام کرتے