خطبات محمود (جلد 18) — Page 543
خطبات محمود ۵۴۳ سال ۱۹۳۷ء ایسا بچہ نہیں جننا جو رسول کریم ﷺ کے لائے ہوئے علم میں ایک شوشہ کا بھی اضافہ کر سکے یا اس میں کمی کر سکے۔ہاں اس کے شارح ہوتے رہیں گے جو اسی کی تفاسیر کرنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی علم کی تفسیر ہی کی اور ہم بھی اب یہی کر رہے ہیں۔آج فضیلت کا معیار یہی ہے کہ علوم کے اس خزانہ میں سے کس پر کتنا ظاہر کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کی فضیلت کی یہی وجہ ہے کہ اس علم کا خزانہ بعد رسول کریم ہے کے سب سے زیادہ آپ پر کھولا گیا۔پس ہم میں سے ہر ایک کی بڑائی اسی میں ہے کہ اس پر وہ دروازہ کتنا کھولا جاتا ہے۔قرآن کریم کو تصنیف تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اگر ہم تمثیلی طور پر ایسا کہہ لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف محمد رسول اللہ ﷺ پرختم ہوگئی۔اب جو بھی آئیں گے وہ اس کے شارح ہوں گے اور اسی کی تشریح کرتے جائیں گے۔تحریک جدید بھی اسی کی ایک تشریح ہے، کوئی نہیں چیز نہیں۔عربی میں حرک کے معنے ہیں ہلانا ، بیدار کرنا اور اسی لحاظ سے اس کو تحریک جدید کہا گیا تھا کہ یہ جماعت کو بیدار کرنے اور جگانے کیلئے تھی۔آج اس تحریک پر تین سال کا عرصہ گزر گیا ہے اور میں نے پہلے اعلان میں کہا تھا کہ یہ ابتداء تین سال کیلئے ہے مگر وصالِ الہی ، استحکام دین اور اشاعت اسلام کا کام تین سال سے نہیں بلکہ عمروں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور کوئی شخص جس دن اس کام کو ختم سمجھے وہی اس کی تباہی کا دن ہے۔جس دن کوئی یہ خیال دل میں لائے وہی دن اس کے تنزل کا ہوتا ہے۔جب مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ دین کا کام پورا ہو گیا ہے، اسی دن وہ تباہی ، ذلّت ، نکبت اور ادبار کے گڑھے میں گرنے لگے۔جب تک مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ یہ کام مکمل نہیں ہوا اور ہم نے اس کی تعمیل کرنی ہے، اُس وقت تک وہ برابر ترقیات کا کام کرتے رہے۔ہم نے دنیا میں قرآن کریم کو قائم کرنا ہے اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں لا تعداد خزانے ہیں تو ہم میں سے جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ قرآن کریم کو قائم کرنے کا کام ختم ہوگیا اس سے زیادہ پاگل کون ہو سکتا ہے۔بارش ہونے کے بعد جو شخص یہ کہے کہ اب ہمیشہ کیلئے بارش ہو چکی تو اسے پاگل کہا جائے گا۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت جو بادل آئے تھے وہ برس چکے ہیں اور ی جب خدا تعالیٰ کے بادل ختم نہیں ہوتے ہر روز اور ہر مہینہ اور ہر سال آتے ہیں تو قرآن کریم کا بادل کس طرح ختم ہوسکتا ہے۔جو شخص یہ سمجھے کہ گزشتہ سال بارش ہوئی تھی اور میرے والد نے کھیت کو پانی دے لیا تھا، اب مجھے پانی دینے کی ضرورت نہیں فصل خود بخود ہو جائے گی وہ احمق ہے۔اس کے باپ نے پانی