خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 544

خطبات محمود ۵۴۴ سال ۱۹۳۷ء دیا تو دانہ بھی لے لیا تھا۔اب اگر اس نے دانہ لینا ہے تو پھر پانی بھی دینا ہوگا ، ہل بھی چلانا ہوگا اور بیج بھی ڈالنا ہوگا۔ہر سال نئے بادل آتے ہیں، نیا پانی برساتے ہیں اور نئی فصلیں اگاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا کلام بھی ہمیشہ نئے مطالب لاتا ہے اور نئی نئی روحانی فصلیں دیتا ہے اور ان کے حصول کیلئے انسان کو ہر دفعہ نئی جد و جہد کرنی پڑتی ہے اور جو شخص سمجھتا ہے کہ اس کام سے وہ تھک گیا ہے اس کی تباہی یقینی ہے۔مگر تم کسی اکھر زمیندار سے کہو کہ تم اپنی زمین میں کاشت کرتے کرتے تھک گئے ہو اب یہ میرے حوالے کر دو تو وہ لٹھ لے کر تمہیں مارنے کیلئے کھڑا ہو جائے گا کیونکہ یہ اس کے فائدہ کی بات نہیں بلکہ نقصان کی ہے۔اسی طرح سمجھدار انسان دین کیلئے جد و جہد چھوڑنے کو کبھی منظور نہ کرے گا کیونکہ اس قربانی میں اس کا فائدہ ہے اس کا نقصان نہیں۔جو شخص اس کام میں تھکتا ہے وہ کبھی نجات نہیں پاسکتا۔جو ا شخص یہ دعوی کرے کہ میں ایسی صورت بتا سکتا ہوں کہ روحانیت دو چار سال میں حاصل ہو جائے گی اور پھر کسی قربانی کی ضرورت نہ رہے، اس سے زیادہ جھوٹا، اس سے زیادہ مفتری اور کذاب دنیا میں پیدا نہیں ہوا۔سچائی یہی ہے جو اسے سننے کی ہمت نہ رکھتا ہو وہ بے شک الگ ہو جائے کہ یہ کام نہ تم سے ختم ہوسکتا ہے نہ تمہاری نسلوں سے اور نہ ان کی نسلوں سے اور نہ یہ قیامت تک ختم ہو سکتا ہے۔قیامت تک جو بھی پیدا ہوگا اس کی گردن پر یہ جوا رہے گا۔جس میں جو ا اُٹھانے کی ہمت نہیں وہ دین کے کام کا نہیں۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہو جایا کرتے ہیں۔جو چند روز کام کرنے کے بعد آرام کرنا چاہتے ہیں یا پنشن کے خواہاں ہوتے ہیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ دین کے کام میں پنشن تو اگلے جہان میں ملتی ہے۔یہاں بھی جو پنشن گورنمنٹ سے لیتے ہیں وہ دنیا کے کاموں سے علیحدہ ہو کر نہیں بیٹھ جاتے۔گھر میں جاتے ہیں تو بچے گرد ہو جاتے ہیں ، اُن کی شادیاں بیاہ کرنے ہوتے ہیں۔پھر پوتے ہوتے ہیں اور اگر زیادہ لمبی عمر ہو تو پڑپوتے ہوتے ہیں۔ان کے متعلق اپنے فرائض کو ادا کرنا پڑتا ہے۔گویا دنیا کے کام بھی کبھی ختم نہیں ہوتے۔جب کوئی شخص گورنمنٹ سے پنشن لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اب اس دفتر میں کام کا اہل نہیں۔یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گھر پر بھی وہ اپنا کوئی کام نہیں کر سکتا۔اور ہم نے تو دیکھا ہے کہ پنشن لینے والے عام طور پر افسروں کی دہلیز پر ہی ناک رگڑتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں صاحب! میرے لڑکے کو نوکری دلوائے۔کبھی پوتے کیلئے کوششیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں صاحب! میں نے بڑی خدمت کی ہے۔کبھی بھیجے کیلئے یا کسی اور رشتہ دار کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں۔کبھی خطار