خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 542

خطبات محمود ۵۴۲ سال ۱۹۳۷ء میں نے بار ہا دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ جو بات کسی کو معلوم ہو وہ لکھا دے اور دوسروں کو سنا دے۔مگر افسوس کہ اس کی طرف بہت ہی کم توجہ کی گئی ہے۔اور اگر کسی نے توجہ کی بھی ہے تو ایسی طرز پر کہ اس کا نتیجہ صفر کے برابر ہے۔پس گو میرا آج کا مضمون تو اور ہے مگر ضمنی طور پر میں دوستوں کو بالخصوص نظارت تالیف و تصنیف اور تعلیم کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ اس قسم کا کام ہے کہ اس میں سے بہت سا ہم ضائع کر چکے ہیں اور اس کیلئے ہم خدا کے حضور کوئی جواب نہیں دے سکتے۔اب جو باقی ہے اسے ہی ہے محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ہمارا سالانہ بجٹ تین لاکھ کا ہوتا ہے مگر اس میں ایک ایسا آدمی نہیں رکھا گیا جو ان لیکچروں اور تقریروں کو جو صحابہ کریں قلمبند کرتا جائے۔اب بھی اگر ایسا انتظام کر دیا جائے تو جو کچھ محفوظ ہوسکتا ہے اسے کیا جاسکتا ہے۔اور اس میں سے سال دو سال کے بعد جو جمع ہو شائع ہوتا ت رہے اور باقی لائبریریوں میں اور لوگوں کے پاس بھی محفوظ رہے۔میں سمجھتا ہوں اب بھی جو لوگ باقی ہیں وہ اتنے ہیں کہ ان سے چالیس پچاس فیصدی باتیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک بہت بڑے مصنف بھی تھے۔اس لئے آپ کی کتابوں میں بھی بہت کچھ آچکا ہے۔لیکن جو باتیں صحابہ کو معلوم ہیں اگر ان کو محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا گیا تو ہم ایک ایسی قیمتی چیز کھو بیٹھیں گے جو پھر کسی صورت میں بھی ہاتھ نہ آسکے گی۔میں کئی سال سے اس امر کی طرف توجہ ہی دلا رہا ہوں مگر افسوس ہے کہ ابھی تک اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا۔میں اپنے اس درد کی وجہ سے جو اس بارہ میں میرے دل میں ہے کہیں سے کہیں نکل گیا۔میں صرف یہ بتا نا چاہتا تھا کہ ہمارے لئے ایک بہت نازک دور آ رہا ہے۔ایک عظیم الشان کام ہمارے سپرد کیا گیا تھا لیکن ہم ابھی تک اس محل کی بنیادوں کے خاتمہ اور ڈیوڑھی تک بھی نہیں پہنچے جس کی تعمیر اور جس کی آبادی ہمارے ذمہ فرض تھی۔اس کی تعمیر کے لحاظ سے تو کہنا چاہئے کہ ہم ابھی تک اس کی بنیادیں بھی نہیں بھر سکے اور آبادی کے لحاظ سے ابھی اس کی ڈیوڑھی تک بھی نہیں پہنچے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کبھی کبھی کچ ہمیں جگاتے اور ہوشیار کرتے ہیں مگر ہم پھر غفلت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ایک فضل نے مجھ سے تحریک جدید کو جاری کرایا جس کی غرض بھی ہمیں ہوشیار کرنا تھا۔تحریک کے اصل معنے حرکت دینے کے ہیں اور اس نام سے میری مراد یہی تھی کہ جماعت کو بیدار کیا جائے یہ نہیں کہ جماعت کو کوئی نئی چیز دی جائے۔علم رسول کریم ﷺ پر ختم ہو چکا ہے۔کسی ماں نے اب