خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 474

خطبات محمود ۴۷۴ سال ۱۹۳۷ء لوگوں کی دنیا سے علیحدہ ہوگئی اور لوگوں نے یوں محسوس کیا جیسے انہیں آگ سے نکال کر ایک ٹھنڈے کمرے میں پہنچا دیا گیا ہے یا بے آب و گیاہ جنگل سے اُٹھا کر ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے باغ میں بٹھا دیا گیا ہے۔مگر جب وہ لوگ خوش ہوئے اور ان کے دلوں میں شکر کا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے کہا ہم کتنی بڑی راحت میں ہیں اور خدا نے ہم سے کیسا اچھا کام لیا تو نوع نے اُن سے کہا ابھی ایک اور زمانہ آنے والا ہے اور ایک ایسی جنگ ہونے والی ہے جو اِس جنگ سے بہت زیادہ خطر ناک اور مہیب ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے انعامات بھی نازل ہونے والے ہیں جو تمہارے ان انعامات سے بہت بڑھ کر ہیں۔اس طرح حضرت نوح نے اپنی قوم کے دلوں میں اس آخری زمانہ کے دیکھنے کی خواہش پیدا کر دی۔جو بہادر تھے اُن کے دلوں میں اس لحاظ سے کہ کاش ! اس جنگ میں انہیں بھی لڑنے کا موقع ملے اور جو نسبتا کمزور تھے اُن کے دلوں میں اس لحاظ سے کہ کاش! ان نعمتوں اور فضلوں کے دیکھنے کا کی جو اس روحانی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے ہیں انہیں بھی موقع میسر آئے۔اور کی وہ اس کی حمد اور ستائش کے گیت گائیں۔یہی کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ، یہی کچھ حضرت موسیٰ نے کہا ، یہی کچھ حضرت عیسی نے کہا اور پھر ان کے بعد جب آنحضرت ﷺ کا زمانہ آیا ، وہ موعود زمانہ جس کیلئے دنیا کی پیدائش ہوئی تھی اور اس انسان کو مبعوث کیا گیا جس انسان کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک یعنی اے محمد ﷺ ! اگر تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو ہی پیدا نہ کرتا۔تو اس وقت انسانی ترقیات کے کمال تک پہنچنے اور خدائی فضلوں کے انتہا تک پہنچنے کا زمانہ آ گیا۔لوگ خوش ہوئے اور انسان نے مسرت سے جھوم کر کہا میں کس بلند معیار تک پہنچ گیا۔مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابھی ایک آخری زمانہ آنے والا ہے۔میں نہیں جانتا میری اُمت کی ابتدا اچھی ہے یا انتہاء۔غرض وہ اطمینان کا سانس جو انسان لے سکتا تھا اس اطمینان کا سانس لینے کے معا بعد ان کے دلوں میں رسول کریم ﷺ نے ایک نئی امید پیدا کر دی اور آپ نے فرمایا بے شک میرا زمانہ بہترین ہے مگر میری روحانی تربیت سے بعض اور لوگ بھی حصہ لینے والے ہیں اور ایک دفعہ پھر میں آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا ہوں۔پھر روحانی طور پر میری ایک اور بعثت ہونے والی ہے۔میں نہیں کہہ سکتا میری اُمت کی ابتدا اچھی ہے یا انتہاء۔جب آپ نے فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا میری اُمت کی ابتدا اچھی ہے یا تی انتہاء تو لوگوں کے دلوں میں خواہش پیدا ہو گئی اور انہوں نے چاہا کہ کاش! ہم بھی وہ زمانہ دیکھیں۔غرض