خطبات محمود (جلد 18) — Page 473
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء حمدیوں کے اعمال اور اقوال دُنیا سے نرالے ہونے چاہئیں (فرموده یکم اکتوبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آج میرا منشاء ایک خاص مضمون بیان کرنے کا تھا مگر چونکہ میں کچھ دنوں کیلئے باہر جارہا ہوں میں نے سمجھا کہ ایسے اہم معاملہ کو ایسے ہی وقت میں بیان کرنا چاہئے جبکہ بعد میں آنے والے خطبات میں اگر ضرورت ہو تو اس کی مزید تشریح کی جا سکے۔اس لئے میں اُس مضمون کو اس وقت تک کہ خدا تعالیٰ کی مشیت اس کا وقت لے آئے ، چھوڑتا ہوں۔اور آج جماعت کو مختصر الفاظ میں اس امر کی طرف توجہ کی دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسے زمانہ میں پیدا کیا ہے جس کی خواہش اور امید کروڑوں کروڑ آدمی جو ہم سے کم محبت رسول نہیں رکھتے تھے یا ہم سے کم خشیت اللہ ان کے دلوں میں نہ تھی ، کرتے ہوئے گزر گئے۔چھوٹی چھوٹی خواہشات بھی انسان کے قلب میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیتی ہیں تو بڑی بڑی خواہشات کے عدم حصول پر جذبات کی جو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں یا جیسے جیسے رنج اور دکھ انسان کو اُٹھانے پڑتے ہیں اُن کا اندازاہ لگانا کوئی آسان کام نہیں۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے متعلق گزشتہ انبیاء لوگوں کے دلوں میں اُمید میں پیدا کرتے چلے گئے ہیں۔حضرت نوح آئے اور انہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو عظیم الشان نشانات دکھائے ، انسانی ایمان کو تازہ کر دینے والے معجزات دکھائے ، الہی فضلوں کا مشاہدہ کرایا، ان کے ایمانوں کو تازگی بخشی اور انہیں محبت الہی کا ایسا درس دیا کہ ان کے دل خوشی اور اطمینان سے لبریز ہو گئے۔اور اپنے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی دنیا عام