خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 475

خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۳۷ء ہر نبی نے اس زمانہ کی خبر دی اور ہر امت نے اس کو دیکھنے کی خواہش کی۔مگر اس زمانہ کو دیکھنے کا موقع کس کو ملا۔تمہارے اور میرے جیسے کمز ور لوگوں کو۔خواجہ مظہر جان جاناں ایک دفعہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ایک شاگرد بھی جو انہیں بہت پیارے تھے اور وہ خود بھی بڑے عارف تھے، ان کے پاس موجود تھے کہ کوئی شخص بالائی کے لڈولا یا اور اس نے وہ لڈو تحفہ کے طور پر آپ کے سامنے پیش کر دئیے ( دہلی کے بالائی کے لڈو خاص مشہور ہیں ) انہوں نے ان لڈوؤں میں سے دولڑو اٹھا کر اس شاگرد اور خلیفہ کو دے دیئے۔دو چار منٹ گزرے تو آپ نے نگاہ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور فرمایا میاں! تمہارے ہاتھ میں تو کچھ بھی نہیں۔میں نے تو تمہیں لڈو دیئے تھے۔وہ کہنے لگا حضور ! وہ تو میں نے اسے کھالئے۔کہنے لگا کیا دونوں کھالئے ؟ وہ کہنے ؟ لگا حضور لڈو بھی کوئی چیز ہوتے ہیں وہ تو ایک دفعہ ہی میں نے منہ میں ڈال لئے۔خواجہ مظہر جان جاناں صاحب ایک جذبہ کی حالت میں چلے گئے اور بار بار یہ فقرہ دہرانے لگے میاں ! تمہیں لڈو کھانے بھی نہیں آتے۔یہ دیکھ کر شا گرد کے دل میں کچھ ندامت اور شرمندگی پیدا ہوئی اور اس نے کہا حضور! پھر آپ ہی بتائیے کہ لڈو کس طرح کھائے جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا پھر کبھی لڈو آئے تو تمہیں بتا ئیں گے۔چند دن گزرے تھے کہ پھر کوئی شخص تحفہ کے طور پر آپ کے پاس بالائی کے لڈو لایا۔وہ شاگر د پاس ہی کی بیٹھا تھا کہنے لگا حضور ! اب بتائیں کہ لڈو کس طرح کھائے جاتے ہیں۔آپ نے جیب سے ایک رومال نکالا اور اُسے بچھا کر اُس پر ایک لڈور کھ دیا اور اپنے اس شاگرد کو دیکھ کر فرمایا کیا تم سمجھتے ہو یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے۔یا درکھو یہ چھوٹی چیز نہیں بلکہ بہت بڑی چیز ہے۔ذرا غور تو کرو اس لڈو کے بنانے میں کیا کیا چیزیں خرچ آتی ہیں۔کچھ گھی لگتا ہے، کچھ بالائی لگتی ہے، کچھ میٹھا لگتا ہے، کچھ میدہ خرچ ہوتا ہے۔پھر کچ فرمایا تو ان چیزوں کو ذرا آگے تو پھیلاؤ اور اگر سب کو نہیں تو خالی میدے کو ہی لے لو، کتنی محنتوں اور کی مشقتوں کے بعد وہ تیار ہوا ہے۔تم جانتے ہو کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر زمیندار اپنے کھیتوں کو گئے۔بیمار بچوں کو گھروں میں چھوڑ کر اور بعض دفعہ خطرناک امراض میں مبتلا بیویوں کو چھوڑ کر آدھی رات کے وقت انہوں نے اپنے اپنے بل اٹھائے اور کھیتوں کو چل دیئے۔ننگے پاؤں پتھروں اور روڑوں پر سے گزرتے ہوئے ایسی حالت میں کہ انہیں سانپوں کے ڈسنے کا خطرہ تھا اور بچھو کی نیش زنی کا ڈر۔مگر وہ والہانہ انداز میں گئے اور انہوں نے ہل چلانا شروع کر دیا۔پھر فرمانے لگے آخر انہوں نے یہ کیوں کیا اور کیوں یہ تمام کی