خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 418

خطبات محمود ۴۱۸ سال ۱۹۳۷ء حالات کی تبدیلی کے ساتھ وہ بدل جاتے ہیں اور لوگ شبہ کر سکتے تھے کہ اگر اس کے خلاف جماعت میں حالات ظاہر ہوں تو ہم یہ سمجھ لیں گے کہ یہ وعدہ شرطی تھا۔جب اس کی شرائط پوری نہ ہوئیں اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کو بدل دیا۔پس اللہ تعالیٰ نے دوسرے الہام کے ذریعہ سے اس بات کو صاف کر دیا اور بتا دیا کہ یہ وعدہ نہیں بلکہ اس قدیم سنتِ الہیہ کے ظہور کا اس الہام میں ذکر ہے جو ہمیشہ ہمارے ماموروں کے حق میں پوری ہوتی چلی آئی ہے اور اب تیرے حق میں بھی پوری ہوگی۔اور فرمایا کہ ہم ہمیشہ اپنے مقربوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ فیصلہ تھا جس طرح پہلے انبیاء اور مامورین کے متعلق یہی فیصلہ ہوتا رہا ہے کہ وہ سنت اپنے کی وقت سے ملے گی نہیں اور نہ ان مقاصد کے پورا ہونے سے پہلے جن مقاصد کے پورا کرنے کیلئے کی - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا گیا تھا، اس کا زمانہ ختم ہوگا۔یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے ایک اور الہام سے بھی ثابت ہوتی ہے۔گوسنتِ الہیہ کو دیکھتے ہوئے کسی مزید ثبوت کی ضرورت بھی نہ تھی۔وہ الہام یہ ہے مَا أَنتَ اَنْ تَتْرُكَ الشَّيْطَنَ قَبْلَ أَنْ تَغْلِبَهُ - اَلْفَوْقُ مَعَكَ وَالتَّحْتُ مَعَ اعْدَاءِ ک۔یعنی اے ہمارے مامور ! تو شیطان کا پیچھا اُس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک تو اُس کو ہلاک نہ کرے اور اُسے تباہ نہ کر دے کیونکہ غلبہ تیرے لئے مقدر ہے اور ی مغلوبیت تیرے دشمن کیلئے۔اس الہام میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت روحانیہ اُس وقت تک متواتر اور بغیر وقفہ کے جاری رہے گی جب تک کہ دنیا سے شیطان کی حکومت کو نکال نہ دیا جائے اور اسلام کو دوسرے ادیان پر جو اب سچائیوں اور جھوٹوں کا مرکب ہیں غالب نہ کر دیا جائے۔اور اس عرصہ میں کوئی وقفہ نہیں پڑے گا کیونکہ مَا أَنْتَ أَنْ تَتْرَكَ الشَّيْطَنَ میں بھی ایک قاعدہ بیان کیا گیا ہے اور ایک فرض کو ظاہر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ بات تیری شان کے خلاف ہوگی اور الہی سنت کے خلاف ہوگی اگر شیطان پر غلبہ اور فتح پانے سے پہلے تو اور تیری جماعت اس جنگ کی سے غافل ہو جائیں اور شیطان کو اُس کے حال پر چھوڑ دیں اور تیری جماعت گمراہ ہو جائے اور شیطان آزاد ہو جائے اور جھوٹے ادیان کو سانس لینے کا موقع مل جائے۔پس الہی سنت کے ماتحت تیری جماعت کا قدم اُس وقت تک برابر راستی پر رہے گا جب تک کہ شیطان مغلوب نہ ہو جائے اور اسلام کو کی