خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 419

خطبات محمود ۴۱۹ سال ۱۹۳۷ء دوسرے ادیان پر غلبہ نہ حاصل ہو جائے۔اب دیکھو یہ ایک کیسی گھلی بشارت ہے جو سنت الہیہ کے ساتھ وابستہ ہے اور جس کے متعلق خدا تعالی کا یہ قانون ہے کہ وہ کبھی نہیں بدلی جاتی اور اس کے اندر کبھی رخنہ نہیں پڑنے دیا جاتا۔وہ نہ اپنے وقت سے پیچھے بہتی ہے اور نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوتی ہے۔اب ان پیشگوئیوں اور ان قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کرو اور سوچو کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جماعت میں گمراہی پھیل گئی اور وہ اب اس کی تی اصلاح کریں گے ، وہ کس طرح سنت الہیہ کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں وہ اپنی وفات کے تی بعد پھر زندہ ہو جاتے ہیں۔یعنی ان کی روح ان کی جماعت میں حلول کر جاتی ہے اور ان کی جماعت کی نیکیوں کا پلہ اُن کی بدیوں پر بھاری رہتا ہے۔اور وہ اسی حالت میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں کی تک کہ شیطان مغلوب ہو جاتا ہے اور مذہب کو فوقیت اور غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔تب خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہو چکتے ہیں اور وہ نصرت جو نبیوں کیلئے بلا واسطہ یا بعد میں جماعت کے ذریعہ بالواسطہ مقدر ہوتی ہے اُس کو خدا تعالیٰ کھینچ لیتا ہے اور اُس وقت کے بعد انسانی اعمال خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہوتا ہے وہ دنیا میں دینی روح کو قائم رکھتے ہیں اور پھر ایک عرصہ کے بعد ان میں سنت اللہ کے ماتحت خرابیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور الہی نصرت کی ان کو چھوڑ دیتی ہے۔مگر یہ حالت غلبہ کے بعد آتی ہے پہلے نہیں۔اگر یہ حالت پہلے آ جائے تو یہ ایک یقینی دلیل ہوگی اس امر کی کہ مدعی اپنے دعوئی میں سچا نہیں تھا بلکہ جھوٹا تھا کیونکہ اس کے مقاصد کے پورا ہونے سے پہلے ہی اُس کی جماعت میں رخنہ پیدا ہو گیا۔اب دیکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کن مقاصد کو لے کر دنیا میں آئے تھے۔آپ کی تحریرات اور آپ کے الہامات سے اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور قرآن کریم کی بینات سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اس غرض سے تھی کہ اسلام کو کی دوسرے ادیان پر غالب کیا جائے۔اور ابھی تو ہماری جماعت کی یہ حالت ہے کہ ہمیں خود دار الامان میں کامل امن حاصل نہیں اور دین کے دشمن خود ہمارے مرکز میں آکر ہمارے پیاروں اور ہماری محبوب ترین و ہستیوں کو گندی سے گندی گالیاں دیتے ہیں۔مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملے کرتے ہیں اور کی