خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 417

خطبات محمود ۴۱۷ سال ۱۹۳۷ء نظر آئے گا کہ جس چیز کو خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قرار دیا ہے اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔مشروط وعدے بدل جاتے ہیں، غیر مشروط وعید بھی ٹل جاتے ہیں۔خدا کی قدرت خود اپنی ہی تقدیر مبرم کو بدل دیتی ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ سنت اللہ میں تبدیلی ہو جائے۔سنت اللہ جو آدم کے وقت میں تھی وہی سنت اللہ نوح کے وقت میں تھی ، وہی سنت اللہ ابراہیم کے وقت میں تھی ، وہی موسیٰ کے وقت میں تھی ، وہی کرشن کے وقت میں تھی ، وہی رام چندر کے وقت میں تھی ، وہی زرتشت کے وقت میں تھی ، وہی عیسی کے وقت میں تھی اور پھر وہی آنحضرت مے کے وقت میں تھی اور وہی آکر پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة ) والسلام کے وقت میں ظاہر ہوئی۔اس میں کبھی ایک رتی بھر بھی تبدیلی نہیں ہوئی اور جس مامور اور مدعی کے متعلق ہم اس میں تبدیلی دیکھیں ہم اس الہی قانون کے ماتحت یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ مدعی جھوٹا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مدعی تو سچا ہے مگر اس کے لئے خدا تعالیٰ کی سنت کسی اور شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔کیونکہ وعدوں کی شکلیں بدلتی ہیں وعیدوں کی شکلیں بدلتی ہیں مگر سنت اللہ کی شکل کبھی نہیں بدلتی۔پھر دوسرا قانون اس جگہ پر یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَحْوِيلًا یعنی تو اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تعویق و تأخیر نہیں پائے گا یعنی نہ صرف یہ کہ وہ سنت تبدیل نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے وقت سے ملے گی بھی نہیں۔تحویل کے معنے عربی زبان میں ایک جگہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ پر رکھی دینے کے ہیں۔پس وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَحْوِيلًا کے یہ معنے ہوئے کہ سنتِ الہیہ میں جس امر کے ظہور کا کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے وہ اپنے وقت سے ٹل نہیں سکتا۔ضروری اور لازمی ہے کہ سنت اللہ عین وقت پر ظاہر ہو اور اُس وقت تک ظاہر ہوتی چلی جائے جس وقت تک کہ اُس کا ظہور مقدر ہے۔نہ وہ اپنے ظہور کے ابتدائی وقت سے پیچھے ہے اور نہ وہ اپنے ظہور کے انتہائی وقت سے پہلے ختم ہو۔ان دونوں کی قاعدوں کے مطابق اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کو دیکھتے ہیں تو آپ کا پہلا الہام یہ ہے کہ موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء کے ساتھ ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت کے ذریعہ آپ کو ایک نئی زندگی بخشے گا اور وہ زندگی پائیدار ہوگی اور اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ وہ مقاصد پورے نہ ہو جائیں جن کے پورا کرنے کیلئے آپ کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔چونکہ اس الہام کا مضمون بظاہر ایک وعدہ نظر آتا تھا اور وعدے بعض دفعہ شرطی بھی ہوتے ہیں اور کی