خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 40

خطبات محمود ۴۰ سال ۱۹۳۷ء بھاری ہوتی ہے۔پھر روٹی کے ساتھ زندگی وابستہ ہے اور حقہ کی عادت جو ڈالے اسے ہی ہوتی ہے۔افیون جو نہیں کھاتا اسے کوئی تکلیف نہیں دے سکتی مگر روٹی ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔مگر باوجود اس کے روٹی چھوڑنے سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی افیون، گانجہ، چرس، بھنگ، شراب، حقہ اور نسوار وغیرہ کو چھوڑنے سے ہوتی ہے۔دنیا میں لوگ بُھو کے رہ کر اپنے بچوں کو کھانا دیتے ہیں مگر ایک نشہ کا عادی اپنے نشہ کی عادت کو پورا کرنے کیلئے اپنے بیوی بچوں کی بھوک کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ایک شخص بہ نسبت کی اپنے بچوں کے ایک وقت کھو کا رہنے کے خود تین وقت کھو کا رہنا زیادہ پسند کرے گا۔مگر ایک افیونی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بچے تین وقت فاقہ سے رہیں بہ نسبت اس کے کہ اُسے ایک وقت کی گولی نہ ای ملے۔پس عادتوں کی قربانی بھی بڑی قربانی ہے مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا۔امراء کو جن کو کھانوں کی یا جن کپڑوں کے پہننے کی عادت ہوتی ہے ، ان کیلئے ان کی قربانی بڑی چیز ہے لیکن دوسرا اسے دیکھ نہیں سکتا۔ایک امیر دس جوڑے کپڑے استعمال کرنے کا عادی تھا اور اب اُس نے پانچ کرلئے ہیں۔اس کے متعلق ایک دوسرا شخص بے شک کہے گا کہ اس کے دس جوڑے ہوتے تھے۔بیشک اس نے پانچ کر لئے ہیں لیکن میرے دو ہی تھے اور دو ہی ہیں پس میری نسبت اس کے اب بھی تین زیادہ ہیں۔مگر سوال تو عادت کا ہے۔امیر کو دس کے استعمال کی عادت تھی جس میں اُس نے کمی کر دی ہے اور یہ اپنی پہلی عادت پر ہی قائم ہے۔اگر چہ اس کے تین جوڑے اس کی نسبت اب بھی کم ہیں لیکن دو کی عادت ہونے کی کی وجہ سے یہ تکلیف نہیں محسوس کرتا جبکہ دس جوڑوں والا پانچ جوڑے کر کے تکلیف محسوس کر رہا ہے۔میں نے حلقہ ، افیون، بھنگ، چرس اور نسوار وغیرہ کی مثال اس لئے دی ہے کہ پنجاب میں غرباء عام طور پر حقہ کے عادی ہوتے ہیں اور سرحدی صوبہ افغانستان وغیرہ میں نسوار کے استعمال کا رواج زیادہ ہے۔کوئی ناک کے ذریعہ اسے استعمال کرتا ہے اور کوئی منہ میں ڈال کر اور ان مثالوں سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ عادت کا چھوڑ نا بھی بڑی قربانی ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امیر کے پاس پانچ جوڑے زائد تھے ، کیا ہوا اگر اس نے کم کر دیئے۔کیا حقہ زائد نہیں ؟ جس طرح اس کے پاس کپڑے زائد تھے اسی طرح حقہ بھی زائد ہے۔زمیندار کے حقہ کی قیمت اس کے کپڑوں سے زیادہ ہوتی ہے۔جتنی مالیت کا وہ تمبا کو جلاتا ہے اتنی کے کپڑے استعمال نہیں