خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ ۴ سال ۱۹۳۷ء محنت اور قربانی کی عادت ڈالو (فرموده ۲۲ جنوری ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے تحریک جدید میں خاص طور پر کام کرنے اور محنت کرنے اور سادہ زندگی بسر کرنے کی تحریک کی تھی۔دنیا میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا نسبتی پہلو غالب ہوتا ہے اس لئے ان کی حقیقت کا پتہ کی لگانا مشکل ہوتا ہے۔اور بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں نسبت کا اصول اتنا زیادہ عمل نہیں کرتا اس نے لئے ان کا پتہ لگانا آسان ہوتا ہے۔مثلاً روپیہ کی قربانی ہوتی ہے ایک شخص لکھ پتی اور ایک کنگال ہے۔ان دونوں کی قربانیوں کا امتیاز اور فرق بہت مشکل ہے اور اسی طرح ان کے کھانے پینے اور پہننے کی تی ضرورتوں کے فرق کا پتہ لگانا بھی بڑا مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ تکلیف صرف غذا کی کمی یا زیادتی سے نہیں ہوتی بلکہ عادت کے پورا ہونے یا نہ ہونے سے بھی ہوتی ہے۔افیون کتنی چھوٹی سی چیز ہے۔حقہ کا دھواں کتنا ہلکا پھلکا ہوتا ہے۔سال بھر حقہ پینے سے جو دھواں حاصل ہوتا ہے اُس کا وزن اتنا بھی نہیں ہوتا جتنا ایک وقت کے کھانے کا۔بعض لوگ بھنگ کے عادی ہوتے ہیں مگر ظاہر ہے بھنگ کو غذا سے کیا نسبت ، مگر ان چیزوں کے چھوڑنے کی تکلیف غذا سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔تم بغیر کسی زیادہ تکلیف کے دو وقت کا فاقہ کر سکتے ہومگر ایک افیونی اس ذراسی گولی کا دو وقت ناغہ نہیں کر سکتا۔جو شخص تھے کا عادی ہے اس سے دریافت کرو کہ روٹی نہ ملنے سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے یا حقہ نہ ملنے سے۔وہ یہی جواب دے گا کہ وہ ان بُھوکا رہ سکتا ہے مگر حقہ کے بغیر نہیں۔حالانکہ مادی لحاظ سے حقہ کا دھواں بالکل ہلکا ہوتا ہے اور روٹی