خطبات محمود (جلد 18) — Page 41
خطبات محمود ۴۱ سال ۱۹۳۷ء کرتا۔وہ سردی سے ٹھٹھرتا پھرے گا، نمونیہ کی تکالیف اُٹھائے گا، اپنی صحت کو برباد کرے گا مگر حقہ نہیں چھوڑے گا۔حقہ کی عادت کی زیادتی کی وجہ سے اس نے کپڑے کی عادت کو کم کر دیا ہے۔ہماری جماعت میں کم سے کم بیس ہزار لوگ ایسے ہوں گے جن کے دُھوں کا خرچ ان کے چندوں سے زیادہ ہے۔کم سے کم ہیں ہزار زمیندار ایسے ہوں گے جن کا سالانہ چندہ روپیہ ڈیڑھ روپیہ بلکہ بارہ آنہ ہی ہوگا اور اس قدر خرچ میں وہ سال بھر حقہ نہیں پی سکتے۔اگر وہ دھیلا روز کا بھی تمباکو پیتے ہوں تو تین روپیہ سالانہ خرچ ہوتے ہیں مگر وہ کہیں نہ کہیں سے اس خرچ کو پورا کرتے ہیں کیونکہ وہ اس عادت کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔پس اگر ہم عادت کا اندازہ کر سکتے تو صحیح نتیجہ معلوم ہوسکتا کہ کون کچی قربانی کرتا ہے اور کون نہیں۔مگر اس کا اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے کہ ایک فرد کو ایک چیز کے چھوڑنے سے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ہم تو صرف ظاہر کو ہی دیکھ سکتے ہیں اور ظاہر کی بناء پر بڑی غلطی بھی کر سکتے ہیں۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا اندازہ انسان زیادہ صحیح طور پر کر سکتا ہے اور ان میں سے پہلی چیز محنت اور کام ہے۔امراء پر غرباء مالی قربانی کے سلسلہ میں طنز کر سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ گو وہ ایک کھانا کھانے لگ گئے ہیں لیکن وہ بھی نہایت پر تکلف ہوتا ہے اور ہم تو پہلے بھی روکھی روٹی کھا لیتے تھے یا اچاری کے ساتھ کھا لیتے تھے اور اب بھی ہماری یہی حالت ہے۔یا وہ پانچ جوڑے کپڑوں کے استعمال کرتے ہیں اور ہم ایک ہی۔اس لئے کہ وہ اس عادت کی قیمت نہیں لگا سکتے جسے امراء نے تبدیل کیا ہے۔جسے دس جوڑوں کے استعمال کی عادت تھی اس کا اسے چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسا حقہ پینے والے کا حقہ کو چھوڑ دینا۔مگر عادت کی قربانی کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے امراء وغرباء جھگڑتے ہی رہتے ہیں۔مگر وقت کی قربانی ایسی نہیں جس میں فرق کیا جا سکے۔میں نے بارہا کہا ہے کہ بیکا رمت رہو اور کام کرو اور اس میں امیر وغریب سب مساوی ہیں۔بلکہ غریب کو جس کا پیٹ خالی ہے کام اور محنت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگ بھی چھ چھ گھنٹے تھے پینے میں ہی گزار دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ جو لوگ اپنے چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں اگر ان کے چھ گھنٹے ان کے مخالف نے ضائع کر دیئے تو انہیں شکوہ کا کیا حق ہے۔وہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم نے مزدوری کی مگر چھ آنے ہی ملے حالانکہ ہمارا گزارہ بارہ آنے میں ہوتا ہے۔مگر یہ