خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 320

خطبات محمود ۳۲۰ سال ۱۹۳۷ء انسانوں سے واسطہ ہے کوئی بتا دے اگر میں نے کبھی ایسا کہا ہو۔میں نے کبھی شدید غصہ کی حالت میں بھی ایسی بات نہیں کہی۔مصری صاحب نے تو چند سطور لکھی ہیں۔میری تحریرات کا سلسلہ بہت وسیع ہے کسی جگہ کوئی یہ لکھا ہوا دکھا دے کہ میں یوں کر دوں گا ، میں دنیا کو دکھا دوں گا۔پس انبیاء، خلفاء اور صلحاء کا یہی طریق ہے کہ وہ متکبرانہ الفاظ کبھی منہ سے نہیں نکالتے۔انہوں کی نے جب بھی بڑائی کا اظہار کرنا ہوا سے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کریں گے اپنی طرف نہیں۔اور اگر کبھی اپنی کسی طاقت کا اظہار کریں تو ایسے موقع پر جب یہ کہنا ہو کہ مجھے یہ سامان تو میسر ہے مگر میں اللہ تعالیٰ کے کی حکم کی وجہ سے اس کو استعمال نہیں کر سکتا۔یہ بھی انکسار کا رنگ ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی حکومت کا جوا اپنی گردن پر ہونے کا اظہار اس میں کیا جاتا ہے۔غرض مصری صاحب کے خطوں میں منکسرانہ الفاظ کا استعمال کوئی عجیب بات نہیں۔کوئی شخص خواہ کتنا بڑا متکبر کیوں نہ ہو وہ ایسے الفاظ بھی ضرور استعمال کرتا ہے۔کیونکہ اس طرح لوگوں کی ہمدردی کی حاصل کی جاسکتی ہے اور جذبات رحم کو اپیل کر کے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔کیا تم سمجھتے ہو شداد اور نمرود نے کبھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے تھے۔بڑے سے بڑے جابر بادشاہ بھی منکسرانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں اور ان سے مستغنی نہیں ہو سکتے۔مگر جب موقع آتا ہے اصل حقیقت ظاہر ہو جاتی۔ہندوستان میں ایک مثل مشہور ہے۔لکھنؤ اور دہلی والوں میں ہمیشہ کسر نفسی کا مقابلہ رہتا ہے۔دونوں اپنے آپ کو زیادہ مہذب اور صاحب اخلاق ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں دہلی کے ایک مرزا صاحب اور لکھنو کے میر صاحب ریل گاڑی پر سوار ہونے کیلئے اسٹیشن پر آئے۔دونوں کو اپنی تہذیب اور اپنے شہر کی عزت کا خیال تھا۔مرزا صاحب جھکے اور میر صاحب سے کہا قبلہ! تشریف رکھئے۔ادھر میر صاحب ان سے بھی ایک بالشت زیادہ جھکے اور کہنے لگے کہ نہیں مرزا صاحب آپ پہلے تشریف رکھئے۔اس بیچ میرزا کی کیا طاقت ہے کہ آپ کی موجودگی میں پہلے بیٹھ سکے۔ادھر مرزا صاحب کچھ اور مجھکے اور کہنے لگے کہ نہیں جناب ! اس فقیر حقیر کی کیا مجال ہے کہ اتنی بے ادبی اور گستاخی کر سکے۔اتنے میں گاڑی نے سیٹی دی اور چلنے لگی اور یہ دونوں بھاگے۔وہ اسے کہنی مارے کہ خبیث ! پیچھے ہٹ میں رہ جاؤں گا اور وہ اسے پرے ہٹائے کہ کمبخت ! مجھے سوار ہونے دے۔یہ مثال اسی امر کے اظہار کیلئے ہے کہ انکسار کا مظاہرہ تکبر کی اصلیت کو چھپا نہیں سکتا۔تمام اظہار انکسار کے باوجود تکبر باہر پھوٹ آتا ہے۔